واشنگٹن:مختار مائی کے حق میں مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے سامنے دو سو کے قریب افراد نے جن میں نوے فیصد عورتیں اور ان میں اکثریت مقامی امریکیوں کی تھی مختار مائی پر پاکستانی حکومت کی مبینہ پابندیوں پر احتجاج کیا۔ اس احتجاج کا اہتمام ’ایشین۔امریکن اگینسٹ ابیوز آف ویمن‘ (آنا) اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کیا تھا۔ ’عورتوں کے حقوق یا انسانی حقوق‘ ، ’ آزاد کرو آزاد کرو، مختار مائی کو آزاد کرو‘ وہ نمایاں نعرے تھے جو واشنگٹن میں پاکستانی حکومت کے خلاف مختاراں مائی کی حمایت میں احتجاج کرنے والے ان مظاہرین کے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی تحریری تختیوں پر درج تھے۔ واشنگٹن کے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ مظاہرین میں اکثریت نسلی لحاظ سے مقامی امریکی سفید فاموں اور پھر افریقی امریکی نسل کے لوگوں کی تھی جن میں نوے فیصد تعداد عورتوں کی تھی۔ ’آزاد کرو آزاد کرو مختار مائی کو آزآد کرو‘ کے نعروں کی تال اور لڑکیوں اورعورتوں کے ہاتھوں میں سوڈا کے خالی ڈبوں میں ڈلے ہوئے چھوٹے سے کنکروں سے ایک موسیقی پیدا ہو رہی تھی جس پر یہ شرکا حلقہ بنائے سڑک کے کنارے مارچ کرتے رہے۔ ڈیڑھ گھنٹےتک جاری رہنے والے اس مظاہرے سے (آنا) کی سربراہ ڈاکٹر آمنہ بتر کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشل کے ٹی کمار نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرے کے انعقاد اور اہتمام کے اوقات دفاتر، تعلیمی اداروں اور دن کی معمولی مصروفیات سے گھر لوٹنے والوں کے اوقات سے ملتی تھی اور قریبی سڑک سے گزرنے والے بہت سے ڈرائیوروں نے مظاہرین کے حق میں اپنی گاڑیوں کے ہارن بھی بجائے۔ مظاہرے کے اختتام سے ذرا دیر قبل( آنا) اور ایمنسٹی کے نمائندوں نے پاکستانی سفارتخانے کے گیٹ پر جا کر پاکستانی حکومت کو ایک یادداشت پیش کی جسے پاکستانی سقارتخانے کی نمائندہ اطلاعات طلعت نسیم نے وصول کیا- اس مظاہرے میں نائيجریا سمیت دیگر افریقی ممالک کی عورتیں اور مرد بھی شامل تھے جبکہ واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینکس اور میڈیا کے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس موقع موجود تھی۔ واشنگٹن میں اسی علاقے میں مظاہروں میں شریک ہونے والوں میں سے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب ایسا احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا جس میں لوگوں کی اتنی تعداد نے شرکت کی ہو اور جس میں ہر ملک، قوم اور مکتب فکر کی عورتیں اور مرد شامل ہوں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||