امریکی جاسوسی طیارہ گر کر تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا کہ اس کا ایک جاسوسی طیارہ یو ٹو جنوب مغربی ایشیا میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ طیارے کے گرنے کا اصل مقام ابھی بتایا نہیں جا رہا۔ امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارہ جی ایم ٹی کے مطابق رات کے ساڑھےگیارہ بجے گر کر تباہ ہوا۔ فوجی ترجمان نے طیارے کے ملبے اور پائلٹ کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیاہے۔ فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ مقامی ملک کی حساسیت کی وجہ سے طیارہ گرنے کا اصل مقام افشا نہیں کیا جائے گا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ کو جنوب مغربی ایشیا کے نام سے پکارتا ہے۔ یو ٹو طیارہ ستائیس ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ امریکی جاسوسی طیاروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ امریکہ نے سرد جنگ کے زمانے میں یوٹو کو کامیابی کے ساتھ جاسوسی کے لیے استعمال کیا تھا۔ روس نے 1960 میں دو امریکی یو ٹو طیاروں کو اس وقت تباہ کر دیا تھا جب وہ روس کی فوجی تنصیبات کی تصاویر بنا رہے تھے۔ ایک پائلٹ بچنے میں کامیاب ہو گیا تھا جو دو سال روس کی قید میں رہا تھا۔ امریکہ نے اسی یو ٹو طیارے کے ذریعے ان روسی میزائیلوں کی تصاویر بنا لی تھیں جنہیں کو کیوبا میں نصب کیا جانا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||