’مختارکے پاکستانی ہونے پر فخر ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ملک کی بدنامی کی بات نہیں بلکہ فخر کی بات ھے کہ ہمارا تعلق اس پاکستان سے ہے جس نے مختار مائی کو جنم دیا ہے، یہ بات ایشین - امریکن اگینسٹ ابیوز آف ویمن (آنا) کی ڈاکٹر نزہت احمد نے بدھ کی صبح نیویارک میں اپنی پریس کانفرنس میں کہی۔ یہ پریس کانفرنس پاکستان میں مبینہ طور پر مختار مائی کے ساتھ ہونیوالے حکومتی سلوک کے خلاف آنا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت شہری آزادیوں، انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی طرف سے نیویارک کے مینھیٹن میں پاکستانی قونصل خانے سے فقط دو بلاک یا ایک فرلانگ سے بھی کم فاصلے پر ہورہی تھی۔ آنا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے کی جانے والی اس پریس کانفرنس میں شریک اور نمایاں افراد میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شیلا ڈاور، شہری آزادیوں کی تنظیم، ٹرننگ پوائنٹ، کی روبینہ ناز اور مسلمان عورتوں کے حقوق کی تنظیم ’ویمن ان اسلام‘ کی عائشہ الدعوای بھی شامل تھیں- ’یہ کوئی مذہب کا معاملہ نہیں لیکن انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کا معاملہ ہے جو اسلام سے ہرگز متصادم نہیں، عاشہ الدعوای نے اس پریس کانفرنس میں کہا- ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شیلا ڈاور نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اپنے عوام اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق کے تحقظ کو یقینی بنائے۔ پریس کانفرنس میں ان سے کئے گئے ایک سوال پر اپنے ایک جواب کے متعلق آنا کی ڈاکٹر نزہت احمد نے نیویارک سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوبتایا کہ ’وطن دشمن عناصر وہ ہیں جنہوں نے مختار مائی کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے اور ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی ہوئی ہے نہ کہ آنا کے لوگ جو پاکستان میں عورتوں کے تشدد کے خلاف سینہ سپر ہیں۔‘ ایریرزونا سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے آنا کے بانی رکن ڈاکٹر ظفر اقبال نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پاکستان میں روشن خیال اعتدال پسندی، مذہبی اور سماجی رواداری کی نمائندہ مختار مائی ہے نہ کہ جاگیردار، جرگہ سسٹم اور فوجی جنرل۔
ڈاکٹر ظفر اقبال نے بتایا کہ ان کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے سیکریٹیریٹ سے اور صدر مشرف کے سیاسی سیکرٹری محمد اسلم خان سمیت دیگر اعلی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے فون آتے رہے ہیں کہ وہ آنا کی طرف سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے ہونیوالے احتجاجی مظاہرے کا پروگرام ختم کردیں کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر جرل مشرف کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے سے پہلے صدر کی پریس سیکرٹری طلعت نسیم کی طرف سے ان سے رابطہ ہوا تھا اور انہوں نے مختار مائی کےساتھ آنا کے پروگراموں کی تقصیل جاننا چاہی تھی جس پر انہوں نے صدر مشرف کی پریس سیکرٹری کو یہ تحریر میں دیا تھا کہ آنا واشنگٹن اور ھیوسٹن میں پاکستانی اور امریکی کمیونٹیز کو پاکستان میں عورتوں پر تشدد اور ان کے حقوق کی صورتحال پر آگہی دلانا چاہتے ہیں۔ ظفر اقبال نے کہا کہ اس پر صدر کی پریس سیکرٹری متفق ہوگئیں تھیں کہ یہ معقول اور درست پروگرام ہے۔ ’لیکن مجھے افسوس ہے کہ نیوزی لینڈ جاکر صدر مشرف نے سول سوسائٹی کے لیے کام کرنے والے لوگوں کےخلاف بیان دیتے ہوئے مختار مائی پر پابندی لگانے کی ’ذمہ داری‘ قبول کرلی اور ہمیں اور اسلامی انتہا پسندوں کو ایک قرار دیا۔ انہوں نےچھان بین کرنے والے کسی ادارے یا فرد کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خبروں سے پاکستان میں آنا میں سرگرم لوگوں کے گھر والے پریشان ضرور ہیں۔ بہر حال ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانے اور دیگر پاکستانی اعلی عہدیدداوں کی طرف سے انہیں واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے کے پروگرام کے منسوخ ہونے کا کہا جا رہا ہے لیکن یہ احتجاجی مظاہرہ ضرور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ان کی اور آنا میں سرگرم ڈاکٹر آمنہ بتر اور ڈاکٹر نزہت احمد سمیت باقی ساتھیوں کی واشنگٹن میں متعین پاکستانی سفیر ریٹائرڈ جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ ٹیلی فون پر مختاراں مائی اور ان کے لیے آنا کی سرگرمیوں پر بات ضرور ہوئی لیکن جنرل جہانگیر کرامت نے ان سے ان کے احتجاج اور ديگر پروگراموں پر کوئی بات نہیں کی۔ ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ انہوں نے جنرل جہانگیر کرامت کو بتایا کہ پاکستان کی نیک نامی اس میں ہے کہ ہم امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کی کمیشن اور منتخب امریکی نمائندوں کی انسانی حقوق کی کاکس کے سامنے پاکستان کی اس با ہمت بیٹی اور خاتون سے پاکستان پر بات کروائيں۔ ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ ایک صرف مختارمائی ہی نہیں لیکن ’آنا‘ زیادتی اور ظلم کا شکار ہر عورت کے انسانی حقوق پر اس کی مدد و حمایت کا پروگرام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا ’دنیا جانتی ہے کہ ڈاکٹر شازیہ خالد کیساتھ کیا ہوا اور اسے کن حالات میں ملک چھوڑنا پڑا‘۔ عورتوں کی ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک سے ملک متاثر نہیں ہوتا جب ہم ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ملک کی بدنامی کی بات آجاتی ہے۔‘ ڈاکٹر نزہت نے کہا کہ 'پاکستانی حکومت کو پاکستانی آئین اور قوانین میں جو حقوق موجود ہیں کم از کم ان سے تو انکار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ ڈاکٹر نزہت احمد نے بتایا کہ انکے واشنگٹن کے احتجاج میں بہت سے پاکستانی اور امریکی ہر مکتب فکر اور مذاہب کے لوگوں نے اپنی شرکت کا یقین دلایا ہے اور ان میں جینیفر نامی ایک عورت بھی ہے جنہوں نے کہا وہ اس احتجاجی اجتماع میں دعا پڑھنا چاہتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||