ایران دھماکے:نو ہلاک، کئی زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی دارالحکومت تہران اور مغربی شہراھواز میں پانچ بم دھماکوں میں نوافراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت تہران میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ اس سے پہلے ملک کے جنوب مغربی صوبے اھواز میں اتوار کو چار مختلف بم دھماکوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ ایران میں صدراتی انتخابات سے پانچ دن قبل ہونے والے ان دھماکوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ 1988 میں عراق کے ساتھ جنگ بندی کے بعد سے ایران میں بم دھماکے کبھی کبھار ہی ہوئے ہیں۔ عراق کی سرحد کے قریب واقع اھواز کا علاقہ اس سال اپریل سے تناؤ کا شکار رہا ہے۔ عربی اور فارسی زبان بولنے والے لوگوں کے درمیان تناؤ کے باعث مبینہ طور پر کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ ابھی تک واضع نہیں ہے کہ اتوار کے دھماکے اسی سلسے کی کڑی ہیں۔ ایک بم گورنر جنرل کے ہیڈ کوارٹر کے باہر پھٹا جبکہ اگلے دو گھنٹے کے دوران مزید تین بم قریب ہی واقع سرکاری دفاتر کے باہر پھٹے۔ خوزستان کے نائب گورنر غلام رضا شریعتی کے مطابق مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ’ ابھی تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دھماکے کس نے کیے ہیں، تاہم یہ دھماکے ناکام رہے ہیں کیونکہ حکومت اس سے پہلے کہیں بری صورتحال کاشکار رہی ہے۔‘ اھواز تیل سے مالا مال خوزستان صوبے کا دارا لحکومت ہے۔ اس علاقے میں اس وقت گڑ بڑ شروع ہو گئی تھی جب اپریل میں انٹرنیٹ پر تقسیم کیے جانے والے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ عرب لوگوں کی اکثریت کو ختم کرنے کی غرض سے غیرعرب لوگوں کو اھوز کے علاقے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم جس سرکاری افسر پر الزام تھا کہ مذکورہ خط اس نے لکھا تھا کے مطابق خط جعلی تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||