گیلوے نے امریکی چیلنج قبول کرلیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ممبر پارلیمنٹ، جارج گیلوے نے امریکی سینیٹروں کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا چیلنج قبول کرلیا ہے۔ سینیٹ کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے ایسی شہادت جاری کی ہے جس سے نظر آتا ہے کہ فرانس کے ایک سابق وزیر اور جارج گیلوے کو صدام حکومت نے لاکھوں بیرل تیل مختص کیا تھا۔ مسٹر گیلوے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سوچنا بھی کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ایک ایسا ممبر پارلیمان ارب پتی تیل کا بیوپاری بن جائے جس کے پیچھے ہر وقت برطانوی خفیہ ایجنسیاں لگی ہوئی ہوں۔‘ جبکہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس عراق کی وزارتِ تیل سے حاصل کردہ ثبوت موجود ہیں اور کچھ سابق عراقی اہلکاروں نے بھی یہ کہا ہے کہ فرانسیسی وزیر اور جارج گیلوے دونوں کے لیے عراق میں اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک پروگرام میں لاکھوں بیرل تیل مختص کیا گیا تھا۔ سینٹ کی کمیٹی نے کہا ہے کہ ’انہیں خوشی ہوگی اگر مسٹر گیلوے کمیٹی کے سامنے 17 مئی کو پیش ہوسکیں۔‘ اس دعوت کے جواب میں مسٹر گیلوے نے کہا کہ’چلیں جہاز کی نشستیں بک کراتے ہیں اور دونوں بیرل لے کر امریکہ چلتے ہیں۔ بیرل تیل کے نہیں بلکہ بندوقوں کے۔‘ مسٹر گیلوے کے ترجمان نے بتایا کہ ’مسٹر گیلوے کا جانا محض جہاز کے ٹکٹ اور ویزے کے بندوبست سے وابستہ ہے۔‘ جارج گیلوے نےکہا کہ انہوں نے امریکی سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو خط لکھا تھا کہ وہ ان کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع دے تاکہ وہ اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کر سکیں لیکن ان کو اس خط کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدام حسین کی حکومت نے اپنی پسند کے غیرملکیوں کے لیے تیل کی بھاری مقداریں مختص کیں جو بعد میں کمیشن کے لیے اسے فروخت کر سکتے تھے۔ تاہم رپورٹ میں اس حوالے سےکوئی ثبوت نہیں ہے کہ سابق فرانسیسی وزیر پاسکا اور جارج گیلوے نے اس سلسلے میں کوئی فائدہ اٹھایا بھی ہے یا نہیں۔ دنوں نے ہی ماضی میں اس نوعیت کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت عراق کو تیل بیچنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ اس طرح حاصل ہونے والی رقم سے عام عراقی شہریوں کے لئے خوراک اور ادویات خرید سکے۔ یہ پروگرام 1996 میں 60 بلین ڈالر کی مالیت سے اس وقت شروع کیا گیا تھا جب عراق کی حکومت کے سربراہ صدام حسین تھے اور عراق اقوامِ متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ یہ پابندیاں 2003 میں امریکی فوج کے عراق پر حملے کے بعد ختم ہوئیں۔ جارج گیلوے نے برطانیہ کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کا رکن ہونے کے باوجود وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کے عراق کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے فیصلے پر انتہائی کڑی نکتہ چینی کی تھی اور عندیہ دیا تھا کہ فوج کو وزیرِاعظم بلئیر کے بقول ان کے ’غیرقانونی‘ احکامات ماننے سے انکار کر دینا چاہئے۔ کچھ عرصے بعد جارج گیلوے اور لیبر پارٹی کا پینتیس برس پرانا رشتہ ٹوٹ گیا اور جارج گیلوے نے ریسپیکٹ نامی جماعت میں رکنیت حاصل کر لی اور ٹونی بلیئر پر مختلف مقامات پر تنقید کرتے رہے۔ حالیہ برطانوی انتخابات میں جارج گیلوے نے مشرقی لندن کے علاقے بیتھنل گرین سے ٹونی بلیئر کی جماعت کی رکنِ پارلیمان لونا کنگ کے خلاف انتخاب جیتا ہے۔ ان پر الزام لگا تھا کہ انتخابی مہم میں انہوں نے نسلی جذبات کو ہوا دی جس کی وجہ سے وہ یہ انتخاب جیت سکے لیکن جارج گیلوے نے بارہا اس الزام سے انکار کیا اور کہا کہ لوگوں نے انہیں جنگ کی مخالفت کرنے پر ووٹ دیئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||