سفارت خانے پر بنگالیوں کا دھاوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت میں کام کرنے والے سات سو سے زیادہ بنگلہ دیشی کارکنوں نے کویتی دارالحکومت میں واقع بنگلہ دیش کے سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور فرنیچر کو نقصان پہنچا۔ اس موقع پر سفارت خانے کے حکام نے پولیس طلب کر لی جس نے حالات پر قابو پایا اور کچھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا جبکہ بقیہ مظاہرین فرار ہو گئے۔ اس مظاہرے کے دوران سفارتحانے کے عملہ محفوظ رہا۔ کویت میں بنگلہ دیش کے سفیر نذرالسلام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ میں دو بنگلہ دیشی افراد زخمی ہوئے ہیں جو کہ سفارت خانے میں اپنے کسی کام کے سلسلے میں آئے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیشی سفیر کا کہنا تھا کہ اس دھاوے کے پیچھے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ ہے۔ سفارت خانے پر حملہ کرنے والے افراد ایک کویتی کمپنی کے ملازم بتائے جاتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ کویت میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب بنگلہ دیشی مختلف کمپنیوں میں کام کرتے ہیں۔ کویت میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکن اکثر تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شکایات کرتے رہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||