علاوی قاتلانہ حملے میں بچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیرِاعظم ایاد علاوی بغداد میں ایک خودکش حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خود کش حملہ آور نے ان کے قافلے کے نزدیک اپنی کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ مغربی بغداد میں ہونے والے اس حملے میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ایاد علاوی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علاوی پر ماضی میں بھی پانچ مرتبہ قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ ادھر بغداد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ بغداد کے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑک پر نصب ایک بم کے پھٹنے سے دو غیرملکی ہلاک ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے سڑک پر چلنے والی تین گاڑیاں اڑ کر دور جا گریں۔ امریکی فوج نے جائے حادثہ کی ناکہ بندی کر دی اور فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر بھی گشت کرتے دیکھے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں القاعدہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بغداد سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ حالیہ بم دھماکوں اور ہلاکتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمت کار عراق میں طاقت کی منتقلی کے عمل سے پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||