BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 April, 2005, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خطرناک جرثومے تباہ کرنے کاحکم
لیبارٹری
یہ نمونے غلط ہاتھوں میں پڑنے کا اندیشہ ہے
امریکی حکومت نے آٹھ ملکوں کی 3،700 تجربہ گاہوں سے کہا ہے کہ وہ انفلوینزایعنی زکام کی خوفناک قسم کے ان نمونوں ختم کردیں جو ٹیسٹ کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔

ان نمونوں میں’ایشین فلو‘ ہے جس نے 1957 میں دس لاکھ سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا لیکن 1968 میں غائب ہو گیا تھا۔

عالمی تنظیم صحت کے کلاز سٹوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ 1968 کے بعد پیدا ہونے والے لوگوں میں اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ وائرس کسی کو لگ گیا تو انفلوینزا کی وباء میں تبدیل ہو سکتا ہے کیونکہ اس جرثومے کا شکار ایک شخص بڑی تیزی سے دوسرے لوگوں میں وباء پھیلا سکتا ہے۔

امریکی ماہرین نے اکتوبر 2004 اور اس سال فروری کے درمیان یہ ٹیسٹ کٹ مختلف تجربہ گاہوں کو بھیجے تھے۔

آٹھ اپریل کو امریکی حکومت نے کالج آف امریکن پیتھولوجسٹ سے کہا کہ وہ ان تجربہ گاہوں کولکھے جن میں سے 61 امریکہ اور کینیڈا سے باہر ہیں کہ ان نمونوں کو تباہ کر دیں۔

حلانکہ اس بات کا امکان کم ہے لیکن جب تک یہ وائرس موجود ہے اس سے لیبارٹریوں کے عملے کو خطرہ ہے۔

اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس وائرس کا استعمال دہشت گردی میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس وائرس کو دوسرے زمرے میں رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ اتنا خطرناک نہیں ہے۔

لیکن کسی جرثومے کو مختلف زمرے میں رکھنے کا فیصلہ کرنے والے امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا اس جرثومے کے زمرے کو تبدیل کیا جائے یا نہیں کیونکہ اس کے ٹیسٹ کٹ بڑے پیمانے پر تجربہ گاہوں میں موجود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کے اس جرثومے کے ہر نمونے کا پتہ لگا کر تباہ کیا جاسکے کیونکہ ممکن ہے کہ کچھ تجربہ گاہوں نےاس کے نمونے تجربے کے لیے کہیں اور بھیج دیئے ہوں۔

تنظیم کے مطابق ابھی تک ایسی کوئی اطلاع بھی نہیں ہے کہ اس جرثومے پر کام کرنے والوں میں سے کوئی اس سے متاثر ہوا ہو۔

امید کی جارہی ہے کہ تمام تجربہ گاہوں اس ہفتے کے اواخر تک اس وائرس کو تباہ کر دیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد