روم میں جگہ نہیں: اطالوی حکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روم میں حکام نے پوپ جان پال دوئم کے آخری دیدار کے لیے آنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر کے مرکز سے دور رہیں کیونکہ وہ جمعہ کو پوپ کے جنازے سے پہلے مزید سوگواروں کے لیے وہاں انتظام نہیں کر سکتے۔ ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ کے قریب افراد قطاروں میں پوپ کے آخری دیدار کی امید میں انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم حکام نے اب قطاروں کو مزید بڑھنے سے روک دیا ہے۔ روم کی پولیس کے سربراہ کے مطابق پوپ کے انتقال سے بعد سے اب تک چالیس لاکھ افراد روم آئے ہیں جس کی اپنی آبادی تیس لاکھ کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا سوگواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ پولینڈ جو پوپ کا آبائی ملک تھا وہاں سے بیس لاکھ افراد روم آئیں گے۔
پوپ کے آخری دیدار کے لیے سوگواروں کی قطار ایک موقعہ پر دو کلو میٹر طویل ہو گئی تھی۔ پولیس نے مزید سوگواروں کو اس قطار میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے انسانی زنجیر بنائی۔ قطار کے آخر میں کھڑے لوگوں کو پندرہ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد پوپ کا آخری دیدار نصیب ہونے کی امید ہے۔ دنیا بھر سے مذہبی اور سیاسی رہنما روم پہنچ رہے ہیں جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات میں پوپ جان پال دوئم کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے دو سو کے قریب اہم سیاسی شخصیات شرکت کے لیے روم آ رہے ہیں جہاں طیارہ شکن میزائیل اور ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
امریکی صدر جارج بش نے دو سابق صدور بل کلنٹن اور بش سینئر کے ساتھ پوپ جان پال کو خراج عقیدت پیش کیا۔ صدر بش کو سینٹ پیٹر بیسلیکا تک پہنچے کے لیے ہزاروں سوگواروں کی قطاروں میں سے گزر کر جانا پڑا جہاں پوپ جان پال کی میت کو دیدارِ عام کے لیے رکھا گیا ہے۔ کارڈینلز نئے پوپ کے انتخاب کا عمل 18 اپریل سے شروع کر دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||