BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روم میں جگہ نہیں: اطالوی حکام
صدر بش اور ان کی اہلیہ، بش سینیئر اور بل کلنٹن
صدر جارج بش پہلے عالمی رہنماؤں میں سے ایک تھے جو روم پہنچے
روم میں حکام نے پوپ جان پال دوئم کے آخری دیدار کے لیے آنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر کے مرکز سے دور رہیں کیونکہ وہ جمعہ کو پوپ کے جنازے سے پہلے مزید سوگواروں کے لیے وہاں انتظام نہیں کر سکتے۔

ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ کے قریب افراد قطاروں میں پوپ کے آخری دیدار کی امید میں انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم حکام نے اب قطاروں کو مزید بڑھنے سے روک دیا ہے۔

روم کی پولیس کے سربراہ کے مطابق پوپ کے انتقال سے بعد سے اب تک چالیس لاکھ افراد روم آئے ہیں جس کی اپنی آبادی تیس لاکھ کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا سوگواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ پولینڈ جو پوپ کا آبائی ملک تھا وہاں سے بیس لاکھ افراد روم آئیں گے۔

جنازے میں شریک ہونے والے
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش
برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر
ایرانی صدر محمد خاتمی
برازیل کے صدر لوئ ایناشیو لولا ڈی سلوا
فلسطین کے وزیرِ اعظم احمد قریع
فرانسیسی صدر ژاک شیراک
تائیوان کے صدر چین شیوئیبیان
ڈی آر کونگو کے صدر جوزف کابیلہ
یورپی یونین کے صدر ہوسے مینوئل باراسو

پوپ کے آخری دیدار کے لیے سوگواروں کی قطار ایک موقعہ پر دو کلو میٹر طویل ہو گئی تھی۔ پولیس نے مزید سوگواروں کو اس قطار میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے انسانی زنجیر بنائی۔ قطار کے آخر میں کھڑے لوگوں کو پندرہ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد پوپ کا آخری دیدار نصیب ہونے کی امید ہے۔

دنیا بھر سے مذہبی اور سیاسی رہنما روم پہنچ رہے ہیں جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات میں پوپ جان پال دوئم کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

اس تقریب میں دنیا بھر سے دو سو کے قریب اہم سیاسی شخصیات شرکت کے لیے روم آ رہے ہیں جہاں طیارہ شکن میزائیل اور ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

روم میں رش
مزید لوگ پوپ کا آخری دیدار نہیں کر سکیں گے

امریکی صدر جارج بش نے دو سابق صدور بل کلنٹن اور بش سینئر کے ساتھ پوپ جان پال کو خراج عقیدت پیش کیا۔ صدر بش کو سینٹ پیٹر بیسلیکا تک پہنچے کے لیے ہزاروں سوگواروں کی قطاروں میں سے گزر کر جانا پڑا جہاں پوپ جان پال کی میت کو دیدارِ عام کے لیے رکھا گیا ہے۔

کارڈینلز نئے پوپ کے انتخاب کا عمل 18 اپریل سے شروع کر دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد