 |  احمد عمر ابو علی کا کہنا ہے کہ اسے سعودی عرب میں حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا |
امریکہ کی ایک عدالت میں احمد عمر ابو علی نامی ایک شخص کو اس الزام میں پیش کیا گیا ہے کہ اس نے صدر بش کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ الزام کے جواب میں ملزم نے انکار یا اقرار ریکارڈ نہیں کرایا لیکن اس کے وکیل نے کہا کہ سعودی عرب میں ڈیڑھ سال پہلے جب اسے پکڑا گیا تھا تو اسے ایذائیں دی گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے جج سے کہا ہے کہ وہ عدالت کو خود پر کیے جانے والے تشدد کے نشانات دکھا سکتے ہیں۔ ان کے وکیل اشرف نوبانی نے خبر رساں ادارے ایسوایٹیڈ پریس کو بتایا کہ ابو علی کی پیٹھ پر نشان ہیں۔ انہیں کوڑے مارے گئے اور کئی دنوں تک ہتھکڑی لگا کر رکھا گیا۔ الزام یہ ہے کہ احمد عمر ابو علی نے جارج بش کو گولی سے یا کار بم سے مارنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ ملزم کے کوئی سو کے قریب حامی بھی عدالت میں تھے اور جب الزامات سنائے گۓ تو عدالت میں قہقہے بھی بلند ہوئے۔ اس کے علاوہ ابو علی پر القاعدہ سے تعلق اور دشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ |