دہشتگردی مخالف قانون ’جائز نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی اعلیٰ عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار ہونے والے غیرملکیوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے جیل میں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ برطانوی عدالت کے اس فیصلے سے ٹونی بلیئر کی حکومت کے انسداد دہشت گردی سے متعلق اقدامات کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ حکومت نے کئی غیرملکیوں کو دہشت گردی کے شبہے میں بغیر عدالتی سماعت کے لندن کے جنوب میں واقع بیلمارش جیل میں قید کررکھا ہے۔ برطانیہ کے لاء لارڈز نے اپنے آج کے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام حقوق انسانی سے متعلق یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ججوں نے یہ بھی حکم دیا کہ حکومت زیرحراست افراد کو عدالتی کارروائی کا خرچ مہیا کرے۔ حقوق انسانی کا دفاع کرنے والی تنظیمیں بیلمارش جیل کو ’برطانیہ کا گوانتاناموبے‘ قرار دیتی ہیں۔ نیویارک پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد برطانوی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لیے جو قوانین نافذ کیے تھے ان کے تحت غیرملکیوں کو بغیر کسی سماعت کے قید کیا جاسکتا ہے یا وہ چاہیں تو دوسرے ملک جاسکتے ہیں۔ لیکن حقوق انسانی سے متعلق برطانوی قوانین کے تحت ان لوگوں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ہے اگر وہاں جانے پر ان کے خلاف ظلم و زیادتی کا خدشہ ہو۔ آج کا فیصلہ نو ججوں پر مشتمل ایک پینل نے دیا ہے جبکہ عام طور پر اس طرح کے آئینی چلینج کے لیے چھ ججوں کا پینل فیصلہ کرتا ہے۔ زیرحراست افراد کی نمائندگی کرنے والے جج بین ایمرسن نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی سے منسلک ہونے کے شبہے میں ان لوگوں نے تین سال قید میں گزار لیا ہے۔ آج کے فیصلے کا مطلب یہ ہوگا کہ برطانوی وزارت داخلہ کو اپنے قوانین میں تبدیلی کرنی پڑے گی اور اب کسی بھی شخص کو بغیر عدالتی سماعت کے جیل میں نہیں رکھا جاسکے گا۔ اس سے پہلے ایک زیریں عدالت نے کہا تھا کہ وزارت داخلہ کا ان افراد کو بغیر سماعت کے جیل میں رکھنے کا اقدام یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے اور اس طرح کا قانون ملک کے لیے ہنگامی حالات میں ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||