’دہشتگردی مخالف پابندیاں مؤثر نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک کمیٹی کے مطابق عالمی دہشت گرد گروہوں کے خلاف سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانیوالی پابندیاں بہت حد تک مؤثر نہیں ہورہی ہیں۔ القاعدہ تحریک اور سابق طالبان کی کارروائیوں کی تحقیق کرنے والے ماہرین نے بتایا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے عائد پابندیوں کا دہشت گرد گروہوں کی کارکردگی یا پیسہ اکٹھا کرنے کی حکمت عملی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ہتھیاروں سے متعلق پابندیوں کا بھی دہشت گرد گروہوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ ماہرین نے گذشتہ مارچ میں میڈرڈ کے چار ٹرینوں میں ہونیوالے دھماکوں کی مثال بھی دی جب شدت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد مقامی سطح پر جمع کرکے اسے موبائل فون سے اڑا دیا اور لگ بھگ دو سو لوگ مارے گئے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون بہتر بنانے کے طریقوں کو فعال بنائے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی اس رپوٹ پر پیر کے روز بحث ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||