عراق میں انتخابی مہم کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جنوری کی تیس تاریخ کو ہونے والے انتخابات کے لیے سرکاری طور پر انتخابی مہم کا آغاز بدھ سے ہورہا ہے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں دو سو پچہتر ارکان پر مشتمل آئین ساز اسمبلی وجود میں آئے گی جو آئین سازی کے علاوہ نئی حکومت کی تشکیل کا کام بھی کرئے گی۔ بغداد میں انتخابی حکام نے کہا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ستر جماعتوں نے اندراج کرایا ہے۔ عراق کے عبوری نائب وزیر خارجہ حامد البیاتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان انتخابات کا مقصد عراق میں ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جس میں کسی ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے افرادکا غلبہ نہ ہو۔ انتخابی عملے کے پاس ملک بھر میں انتخابات کی تیاریاں مکمل کرنے کے لیے ابھی چھ ہفتے باقی ہیں۔ انہیں ان علاقوں میں بھی انتخابی تیاریاں کرنی ہے جہاں مزاحمت جاری ہے اور امریکی فوج کے خلاف حملے کئے جارہے ہیں۔ سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے گروہوں نے انتخابات کو کچھ ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور دوسری صورت میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے ان میں کچھ گروپوں نے انتخابات کے لیے اپنا اندراج کرا لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||