عراق میں کام بند، کئیر انٹرنیشل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی شہرت یافتہ امدای تنظیم کئیر انٹرنیشنل نے اپنی ڈائریکٹر مارگریٹ حسن کے اغوا ہونے کے بعد عراق میں اپنی تمام سرگرمیاں بند کردی ہیں۔ مارگریٹ حسن کو گزشتہ دنوں عراق سے ایک نامعلوم گروہ نے اغوا کر لیا تھا۔ الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں مارگریٹ حسن کے ہاتھ پیٹھ پر بندھے دکھائے گئے تھے۔ مارگریٹ حسن کے ایک فلم ساز دوست فیلیسٹی آربتھناٹ نے کہا کہ مارگریٹ ایک غیر معمولی خاتون ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ ہم سب مارگریٹ کے بارے میں فکر مند ہیں۔ الجزیرہ پر نشر ہونے والی فلم میں مارگریٹ حسن کی کئی دستاویزات بھی دکھائی گئیں۔ اربتھناٹ نے کہا کہ مارگریٹ ان دبلی پتلی خواتین میں سے ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی فولاد کی ہے۔ انیس سو اکانوے میں خیلج کی جنگ میں عراق پر حملے کے دوران ماگریٹ تمام وقت عراق میں موجود رہیں۔ مارگریٹ کے شوہر تحسین علی حسن نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ اغوا کنندگان نے ان سے اب تک کوئی رابط نہیں کیا۔ کئیر انٹرنیشنل برطانیہ کے سربراہ جیفری ڈینس نے بی بی سی کے ریڈیو فور پروگرام کو بتایا کہ انہیں ابھی تک مارگریٹ کے اغوا کنندگان کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||