فلوریڈا: ووٹنگ، خرابیوں کی خبریں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کے صدراتی انتخابات میں فلوریڈا کے لوگوں نے اپنے ووٹ ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔ یہ ہی وہ ریاست ہے جہاں سے چار سال قبل صدر بش متنازعہ طور پر چند سو ووٹوں سے جیتے تھے۔ بتیس امریکی ریاستوں میں سے فلوریڈا بھی ایک ایسی ریاست ہے جہاں ووٹروں کو انتخابات کے دن سے پہلے بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ فلوریڈا سے ووٹنگ سسٹم میں کچھ رکاوٹوں کی بھی خبریں آئی ہیں جس میں نامکمل بیلٹ اور کمپیوٹر کی خرابی جیسی چیزیں شامل ہیں۔ جان کیری اور جارج بش دونوں ہی فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ جان کیری نے ووٹروں سے کہا کہ وہ پہلے ووٹ ڈالنے کی سہولت کا فائدہ اٹھائیں تاکہ 2000 کو دہرایا نہ جائے جب کئی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرنا پڑی تھی۔ فلوریڈا جانے سے پہلے صدر بش نے کہا کہ جان کیری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سمجھنے میں بنیادی غلطی کر رہے ہیں۔
ادھر ڈیموکریٹس نے فلوریڈا میں پہلے ہی قانونی چارہ جوئی کی باتیں کرنا شروع کر دیں ہیں۔ انہوں نے نئے ٹچ سکرین ووٹنگ سسٹم پر اعتراض کیا ہے جس میں کوئی بھی کاغذی ریکارڈ نہیں رہتا۔ پام بیچ کاؤنٹی میں ووٹنگ کے ایک گھنٹے کے بعد ہی ریاستی اسمبلی کے ایک ڈیموکریٹک رکن نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایک نامکمل بیلٹ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’اچھا آغاز نہیں ہے‘۔ اورنج کاؤنٹی میں ٹچ سکرین سسٹم کریش کر گیا۔ دیگر جگہوں پر لمبی لمبی قطاروں کی اطلاعات آئی ہیں جہاں لوگوں کو ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ آکسنساس، کولیراڈو اور ٹیکساس میں بھی ووٹنگ شروع ہوئی۔ سابق صدر جارج بش سینیئر نے ریاست ٹیکساس میں اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||