BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈکِ چینی ویب میں پھنس گئے
ڈکِ چینی
ڈکِ چینی کی زبان کا پھسلنا انہیں مہنگا پڑا
امریکی نائب صدر ڈک چینی کی زبان پھسلتے ہی بش مخالف لابی کو ان کے خلاف مہم تیز کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

ہوا یوں کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے نائب صدر کے امیدوار جان ایڈورڈز کے ساتھ ایک ٹی وی مباحثے میں جب ایڈورڈز نے ان کے خلاف الزامات لگائے تو امریکی نائب صدر نے سامعین سے کہا کہ حقیقت کیا ہے یہ دیکھنے کے لیے وہ فیکٹ چیک ڈاٹ کام (factcheck.com) ویب سائٹ پر جائیں۔

لیکن اس ویب سائٹ پر کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے پتہ چلتا ہو کہ حقائق کیا ہیں بلکہ اس پر بہت سے اشتہارات تھے۔

دراصل ڈک چینی لوگوں کو یونیورسٹی آف پینسلونیا کے ایننبرگ سینٹر کی ویب سائٹ پر بھیجنا چاہتے تھے جس کا پتہ (فیکٹ چیک ڈاٹ اورگ) factcheck.org تھا۔

جیسے ہی ڈک چینی نے فیکٹ چیک ڈاٹ کام کا ذکر کیا ویب سائٹ نے تمام آنے والوں کو ارب پتی تاجر جارج سوروس کی سائٹ کی طرف بھیجنا شروع کر دیا۔ واضع رہے کہ سوروس بش انتظامیہ کے بہت بڑے مخالف ہیں۔

سوروس کی ویب سائٹ کے پہلے صفحے پر تحریر تھا: ’صدر بش ہمارے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، ہمارے اہم ترین مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور امریکی اقدار کو کمتر بنا کر پیش کر رہے ہیں‘۔

امریکی نائب صدر نے اس ویب سائٹ کی طرف اس وقت اشارہ کیا جب جان ایڈورڈز نے ان کے تیل کی کمپنی ہیلی برٹن کے چیف ایگزیکیٹیو ہونے کے دور کے بارے بات کی۔ ہیلی برٹن کو عراق میں بہت زیادہ ٹھیکے ملے ہیں۔

ڈک چینی نے کہا کہ ان کے مخالف ہیلی برٹن کا نام انہیں بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور جسے بھی اصل حقائق معلوم کرنے ہیں وہ ویب پر جائیں۔

چوالیس ملین یعنی چار کروڑ چالیس لاکھ سے زائد افراد نے ایڈورڈز اور چینی کے درمیان ٹی وی پر مباحثہ دیکھا۔

فیکٹ چیک ڈاٹ کام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹ پر بوجھ کم کرنے کے لیے اور سیاسی نکتۂ نظر پیش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

مصروف اوقات میں ایک سیکنڈ میں ایک سو سے زائد افراد ویب سائٹ دیکھتے ہیں۔

فیکٹ چیک ڈاٹ کام کے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نائب صدر نے ’غلط کہا ہے کہ ہم نے ایڈورڈز کے الزامات کو غلط ثابت کیا ہے‘۔

بیان کے مطابق: ’ایڈورڈز ہیلی برٹن کو ابتدا میں پیش آنے والی دشواریوں کے بارے میں ڈک چینی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ اور بڑی حد تک ایڈورڈز کی رائے درست تھی‘۔

سو ڈکِ چینی تو اس ویب سائٹ کی حمایت بھی نہیں حاصل کر سکے جس کا انہوں نے حوالہ دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد