BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 October, 2004, 04:35 GMT 09:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینی، ایڈورڈز میں براہ راست مباحثہ
۔
امریکہ میں نائب صدر کے عہدے کے لیے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں کے امیدواروں ڈک چینی اور جان ایڈورڈز نے براہ راست مباحثے میں شرکت کی ہے۔

امریکی ریاست اوہیو میں ہونے والے اس مباحثے کو ٹیلی ویژن چینلوں پر براہ راست نشر کیا گیا۔

یہ مباحثہ صدارتی امیدواروں صدر بش اور جان کیری کے درمیان ہونے والے اس مباحثے کے چند ہی روز بعد منعقد ہوا ہے کس میں جان کیری نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں کے درمیان عراق اور سیکیورٹی کے معاملات پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

نائب صدر ڈک چینی کا کہنا تھا کہ عراق پر حملہ ایک صحیح فیصلہ تھا۔ اس کے جواب میں جان ایڈورڈز نے بش انتظامیہ پر امریکی عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔

منگل کی رات کو ہونے والے مباحثے کے آغاز میں نائب صدر ڈک چینی نے عراقی رہنما صدام حسین کو ہٹانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدام حسین اور القاعدہ تنظیم کے درمیان باقاعدہ طور پر روابط موجود تھے۔

اس کے جواب میں جان ایڈورڈز نے کہا کہ اگر ان کے درمیان کوئی تعلق تھا بھی تو وہ بہت معمولی نوعیت کا تھا۔

انہوں نے بش انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے وسیع تر مقصد سے ہٹ گئی ہے اور اس کے پاس عراق میں امن قائم کرنے کے لیے کوئی پلان نہیں ہے۔

جان ایڈورڈز نے ڈک چینی کی سابق کمپنی ہالیبرٹن کو عراق میں ملٹی بلین ڈالر ٹھیکے دیئے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ڈک چینی نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان الزامات کا بنیادی مقصد ڈیموکریٹک امیدواروں کے خارجہ امور پر شاندار ریکارڈ کو داغدار بنانا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد