عراق پر حملے کے وقت فوج کم تھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکہ کے سابق منتظم اعلیٰ پال بریمر نے کہا ہے کہ عراق پر حملے کے آغاز میں وہاں امریکی بری فوج کی تعداد کافی نہیں تھی۔ بال بریمر کے مطابق اس کا نتیجہ لوٹ مار کی شکل میں نکلا جو لاقانونیت کے پھیلاؤ کا باعث بنا۔ واشنگٹن پوسٹ نامی اخبار میں شائع کردہ پال بریمر کے اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراق میں صدام حسین کے اقتدار کے اختتام کے بعد کے لیے بنائے گئے امریکی منصوبوں میں اس بات کی صحیح عکاسی نہیں کی گئی تھی کہ وہاں قبضے کے بعد کیا صورت حال ہو گی۔ انہوں نے کہا عراق پر قبضے کے بعد کے لیے بنائے گئے منصوبوں میں زیادہ توجہ مہاجروں اور بے گھر ہونے والے افراد کے مسائل سے نمٹنے کو دی گئی تھی اور موجودہ حالات میں ہر سو پھیلی باغیانہ کارروائیوں پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد میں دیئے گئے ایک بیان میں پال بریمر نے نہ صرف بش انتظامیہ کی طرف سے عراقی سکیورٹی فورس کی تربیت کے لیے بنائے گئے منصوبوں کی بھرپور حمایت کی بلکہ عراق سے متعلق مجموعی امریکی پالیسی کو بھی سراہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||