بعث پارٹی کےارکان کے لئے نوکریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
توقع ہے کہ عراق میں امریکی منتظم اعلیٰ پال بریمر اب اس نئی حکمت عملی کا اعلان کریں گے جس کے تحت معزول صدر صدام حسین کی سابق حکمراں جماعت بعث پارٹی کے ارکان پر سرکاری ملازمت کرنے پر پابندی کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ اس حکمت کا مقصد عراق کے سنّی مسلمانوں میں پائی جانے والی شورش کی حمایت کو کم کرنا ہے۔ تاہم عراق کے ایک اعلیٰ رہنما نے اس حکمت عملی کا موازنہ جنگ کے بعد کے جرمنی میں نازیوں کو اقتدار میں لانے کے عمل سے کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بعث پارٹی کے ارکان کی تطہیر کا یہ عمل پال بریمر کی ان اولین پالیسیوں کا ایک حصہ تھا جو انہوں نے اس وقت نافذ کی تھیں جب ایک سال قبل انہوں عراق کا نظم و نسق سنبھالا تھا۔ اس پالیسیوں کے نتیجے میں جن کا سب سے بڑا شکار خود عراق کی سنّی آبادی ہی بن گئی تھی، قریباً تیس ہزار لوگوں کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے جبکہ مزید تیس ہزار کی ملازمت اب تک خطرے میں ہے۔ تاہم عراق کی عبوری انتظامیہ کو بعد میں خود ہی اس حکمت عملی کے نتیجے میں کئی پریشانیوں کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب سرکاری ملازمتوں کے لیے اساتذہ اور ڈاکٹروں جیسے پیشہ ور افراد کی بھرتی کی جانے لگی۔ ان افراد کی اکثریت بعث پارٹی کی درمیانی سطح کے ارکان پر ہی مشتمل تھی۔ اس ہفتے ایک امریکی ترجمان نے اس پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ اس دلیل کے ساتھ دیا تھا کہ بعض اوقات اس پالیسی کی زد میں وہ معصوم لوگ بھی آجاتے ہیں جو بعث پارٹی کے محض نام کے کارکن تھے۔ اس پالیسی میں نرمی عراق کے سنّی مسلمانوں میں موجود اتحاد مخالف شورش میں بھی کمی کا باعث بن سکتی ہے جنہیں اکثر اوقات سرکاری ملازمت سے برطرفی کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن عراق کی عبوری انتظامیہ کے ایک اعلیٰ رکن احمد چلابی کا کہنا ہے کہ بعث پارٹی کے ارکان کی سرکرای ملازمت پر پابندی بالکل ایسی ہی بات ہوگی جیسے کہ جنگ کے بعد کے جرمنی میں نازیوں کو اختیارات سونپ دیئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||