ایران کے’جوہری پروگرام‘ پر قرارداد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے اور فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے درمیان اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو فوراً ختم کردے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی کا ادارہ آئی اے ای اے نومبر میں فیصلہ کرے گا کہ آیا ایران کے خلاف مزید اقدام کیا جائے یا نہیں۔ ادھر ایران کی وزراتِ خارجہ نے کہا ہےکہ امریکہ کے ان دعوؤں سے بین الاقوامی ادارے کو گمراہ کرنا مقصود ہے کہ ایران کی ایک تنصیب جوہری اسلحہ بنانے میں ملوث ہو سکتی ہے۔ یہ قرارداد امریکی جوہری نگرانی کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں ایران کی ایک فیکٹری دکھائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسے جوہری اسلحے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ امریکہ اس قرارداد پر اتفاق کے لیے اس بات پر تیار ہوگیا تھا کہ وہ ایران کے لیے اکتیس اکتوبر کے الٹی میٹم کا مطالبہ چھوڑ دے۔ اب اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ایران حل ہونے والے مسائل کو نومبر میں بین الاقوامی ادارے کے اجلاس سے پہلے پہلے حل کر لے۔ ادارے کے سربراہ محمد البرادعی سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کی دو سالہ کارکردگی پر ایک رپورٹ بھی پیش کریں۔ اس قرارداد میں اس امکان کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ اگر ایران بین الاقوامی ادارے کے مطالبات ماننے میں ناکام ہوجائے تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں ایران کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر کے اس پر پابندی لگائے جانے کا بھی امکان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||