افغانستان:امریکیوں، افغانوں کو سزائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسامہ بن لادن کو پکڑنے پر رکھے گئے انعام کو حاصل کرنے کے لیے افغانستان جانے والے اور پھر اپنے طور پر نجی جیل میں افغانوں کو رکھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے تین امریکیوں کو دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ جوناتھن ایڈیما اور اس کے ساتھی برینٹ بینٹ کو دس دس سال قید اور ان کے ایک اور ساتھی ایڈورڈ کارابالو کو آٹھ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ ملزم ایڈیما نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ انعام حاصل کرنے کے لیے آئے تھے اور ان کی اس مہم کو افغان و امریکی حکام اور ایف بی آئی کی سرپرستی حاصل تھی۔ امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے چار افغانوں کو بھی ایک سے پانچ سال تک جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان ملزمان کو گزشتہ جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا اور سزا سنانے والے جج کا کہنا ہے کہ سزایافتہ افراد اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ ملزمان نے افغانوں کو اغوا کرنے یا انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی تردید کی اور ان کے وکیل نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات کو اٹھا کر باہر پھینک دیا جانا چاہیے اور یہ بھی کہ افغانستان کا نظامِ انصاف ملزمان پر مقدمہ چلانے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ایک سنسنی خیز مقدمے کا سنسنی خیز اختتام ہیں۔ ایڈیما نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اسے پاسپورٹ ایک امریکی سرکاری ادارے نے دیا اور وہ اسامہ بن لادن کا ایک ٹھکانہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ امریکی فوج اس بات کی تردید کرتی رہی ہے کہ جوناتھن ایڈیما فوج یا کسی سرکاری اہلکار کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس شخص کا مکمل ٹریک ریکارڈ نہیں ہے‘۔ دوسری جانب جوناتھن کے ایڈیما کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں امریکی وزیر دفاع کے علم میں بھی تھیں تاہم بعد میں امریکی حکومت نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||