تشدد: ملزموں سے رابطے کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمہ دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا افغانستان میں نجی جیل چلانے والوں اور شہریوں پر تشدد کرنے والوں سے رابطہ تھا۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس نے ملزم اڈیما کی یہ پیشکش مسترد کر دی تھی کہ افغنستان میں مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے لیے مشترکہ کارروائیاں کی جانی چاہیں۔ ملزم اڈیما اور اس کے ساتھی جنہیں گزشتہ جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا یہ کہتے ہیں کہ ان کی کارروائیوں کو امریکی پشت پناہی حاصل تھی۔ اب اڈیما اور ان کے دو ساتھیوں پر نجی جیل چلانے اور شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقدمے کی سماعت جولائی میں شروع کی گئی تھی۔ جوناتھن کے ایڈیما، ایڈورڈ کارابالو اور برنٹ بینٹ پر تشدد، اغواء اور ایک نجی قید خانہ یا پرائیویٹ جیل قائم کرنے کے الزامات ہیں۔ مقدمے کی پہلی کارروائی سے پہلے کابل میں جیل کے باہر اخبارنوسیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جوناتھن پہلے ہی یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ ان کی تمام کارروائیوں سے امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ پوری طرح آگاہ تھے۔ امریکی حکام نے اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ جوناتھن اور ان کے ساتھی ان کے کہنے پر یہ کارروائیاں کر رہ تھے تاہم اب انہوں نے پہلی بار یہ اعتراف کیا ہے کہ انہیں ان کی کارروائیوں کا علم تھا اور یہ کہ انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو تعاون اور اشتراک کی پیشکش بھی کی تھی۔ اب تک محکمہ دفاع ان کے لیے ’ان اتھورائزڈ فری لانس‘ کی اصطلاح استعمال کرتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||