کرائے کے امریکیوں پر مقدمہ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں لوگوں کو پکڑ کر اپنی نجی جیل میں قید رکھنے کے الزام میں تین امریکیوں کے مقدمے کی سماعت پیر کو دوبارہ شروع ہوئی جس کے دوران گروہ کے سرغنہ نے عدالت سے کہا کہ اس کو اپنے اوپر لگائے الزامات کی تفصیل فراہم نہیں گئی ہیں ۔ جوناتھن کے ادما ، برینٹ بینٹ اور ایڈورڈ کارابلو پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں غیر قانون طور پر داخل ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو اغوا کر کے اپنی ذاتی جیل میں قید رکھا۔ جوناتھن کے ادما کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی فوج کا ریٹائرڈ کمانڈو ہے اور وہ پینٹاگون کی اجازت سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف اپریشن کر رہے تھے۔ جوناتھن کے ادما کا دعوی ہے کہ اس کے آپریشن کے بارے میں امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ پوری طرح آکاہ ہیں۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق جوناتھن کے ادما کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور گرفتار ہونے والے تینوں امریکی ’ کرائے کے ماہر‘ ہیں۔اور وہ اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں۔ گرفتار ہونے والے اسامہ بن لادن اور طالبان رہمناؤں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے اعلان کردہ رقوم کے حصول کے لیےافغانستان میں اپنے طور پر کام کر رہے تھے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اسامہ بن لادن اور دوسرے طالبان پر لاکھوں ڈالر کے انعام کے حصول کے لیے کئی لوگ اپنے طور پر مطلوبہ لوگوں کو ڈھونڈنے میں مشغول ہیں۔ کابل انتظامیہ نے جب تینوں امریکیوں کو گرفتار کیا تھا اس وقت کہا تھا کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو اس وقت انہوں نے کئی لوگوں کو اپنی نجی جیل میں الٹا لٹکا رکھا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||