’کرائے کے امریکی‘ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں گرفتار کیے جانے والے تین امریکیوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور در اصل تینوں ” کرائے کے ماہر‘ ہیں اور اسامہ بن لادن اور دیگر مطلوب لوگوں کی گرفتاری پر لگی ہوئی رقم کے حصول کے لیے کام کر رہے تھے۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا کہ گرفتار ہونے والوں کا افغانستان میں امریکی کمانڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گرفتار ہونےوالوں میں جوناتھن کے ادما اور برینٹ بینٹ ہیں۔ تیسرے شخص کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔ گرفتار امریکیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں ایک نجی جیل بنا رکھی تھی۔ گرفتار ہونے والے اسامہ بن لادن اور طالبان رہمناؤں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے اعلان کردہ رقوم کے حصول کے لیےافغانستان میں اپنے طور پر کام کر رہے تھے۔ امریکی ا نتظامیہ کے مطابق ان کا گرفتار ہونے والوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق اسامہ بن لادن اور دوسرے طالبان پر لاکھوں ڈالر کے انعام کے حصول کے لیے کئی لوگ اپنے طور پر مطلوبہ لوگوں کو ڈھونڈنے میں مشغول ہیں۔ کابل انتظامیہ نے کہا ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان تین امریکیوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مارا تو اس وقت انہوں نے کئی لوگوں کو اپنی نجی جیل میں الٹا لٹکا رکھا تھا۔ افغان اہلکاروں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے امریکیوں کےپاس اپنی کارروائیوں کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ افغان اہلکاروں کے مطابق امریکی بھی ان تین امریکیوں کا پیچھا کر رہے تھے کیونکہ وہ امریکی کاروائیوں میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔ پچھلے ہفتے افغانستان میں امریکی سفارت خانے نے صحافیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ جوناتھن ادما سے خبردار رہیں جو اپنے آپ کو امریکی کمانڈو ظاہر کرتا ہے، امریکی سفارت خانے نے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ کا جوناتھن ادما سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ امریکہ کی ملازمت میں نہیں ہے۔ ارمریکہ نے جوناتھن ادما کو ’ مسلح اور خطرناک شخص قرار دیا تھا۔ افغانستان میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے جوناتھن ادما کا نام جانا پہچانا ہے اور مشہور کتاب ’اسامہ بن لادن کی تلاش ‘ میں بھی اس کا ذکر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||