’جیلر‘ سے رابطوں کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے ایک افغان شہری کو حراست میں لیا تھا جسے ایک مبینہ پرائیویٹ جیل چلانے والے امریکی شہری نے ان کے حوالے کیا تھا۔ امریکی شخص پر الزام ہے کہ وہ اپنے طور پر انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ ایک فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ افغانی شخص کو جوناتھن کے آئیڈیما نے مئی میں حکام کے حوالے کیا تھا۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے امریکی شخص کے ذاتی طور پر پکڑے گئے شخص کو حراست میں لینے کا یہ واقعہ امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے کیونکہ امریکہ یہ دعوٰ ی کرتا رہا ہے کہ پیسے پر کام کرنے والے امریکیوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئیڈیما پر تشدد آمیزی، اغوا اور ایک نجی جیل چلانے کا الزام ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جان سیپمین نے کہا ’آئیڈیما یا اس کی تنظیم نے ایک افغان قیدی کو ہمارے حوالے کیا ہے‘۔ ’اس افغان شخص کو حراست میں ہم نے اس وجہ سے لیا ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ شخص مطلوبہ دہشتگردوں میں سے ایک ہے‘۔ تاہم فوج اس بات کی تردید کرتی رہی ہے کہ جوناتھن آئیڈیما فوج یا کسی سرکاری اہلکار کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس شخص کا مکمل ٹریک ریکارڈ نہیں ہے‘۔ اسے اس ماہ کے اوائل میں دو دیگر امریکیوں اور چار افغانوں کے ساتہ حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ کابل میں ایک پرائیویٹ جیل چلاتے رہے ہیں۔ اس میں قید آٹھ افراد کو رہا کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب جوناتھن کے آئیڈیما کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں امریکی وزیر دفاع کے علم میں تھیں تاہم بعد میں امریکی حکومت نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا۔ اس کا دعوٰی تھا کہ مئی میں جس شخص کو اس نے حکام کے حوالے کیا تھا وہ طالبان کا انٹیلی جنس چیف تھا۔ تاہم امریکی حکام نے ایک ماہ بعد افغان شخص کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ اس شخص کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں۔ آئیڈیما اور اس کے دو ساتھیوں کے خلاف عدالتی کارروائی بدھ سے شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہے کہ وہ پینٹاکون کے لیے کام کررہے تھے۔ امریکی حکومت نے اسامہ بن لادن کو پکڑنے والے کے لیے پچیس ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کررکھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||