آباکاروں کی جلد واپسی کا پلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم ایریئل شیرون نے غزہ کی پٹی سے یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوج کی واپسی کے لئے ایک نیا نظام الاوقات پیش کیا ہے۔ وزیراعظم شیرون غزہ کی اکیس یہودی بستیوں کو ہٹانے کے اپنے منصوبے میں تیزی لانا چاہتے ہیں۔ ان کی اس پالیسی کو قدامت پرست یہودی گروہوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اپنی جماعت لیکود پارٹی کے اراکینِ پارلیمان کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران انہوں نے مخالفت کرنے والوں پر کھلے الفاظ میں واضح کیا کہ وہ اپنے منصوبے پر قائم رہیں گے۔ لیکود پارٹی کی اکثریت نے غزہ کی پٹی خالی کرنے کے ان کے منصوبے کو مسترد کردیا ہے لیکن وزیراعظم شیرون کا اصرار ہے کہ وہ وہ علاقہ خالی کرائیں گے۔ وزیراعظم شیرون چاہتے ہیں کہ ستمبر کے وسط میں ان کے اس منصوبے پر ان کی کابینہ ووٹ دے اور اس کے بعد تین نومبر کو پارلیمان میں بھی اس پر ووٹِنگ کی جائے۔ ان کے نئے نظام الاوقات کے مطابق غزہ کی پٹی کو ایک بار میں ہی خالی کرانا ہے جبکہ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ آبادکاروں اور فوج کو قسطوں میں واپس لایا جائے گا۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شیرون اپنی جماعت کے اراکین پارلیمان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعظم شیرون کے منصوبے کے تحت سات ہزار آبادکاروں کو غزہ سے ہٹانا ہے اور ساتھ ہی ان فوجیوں کو بھی جو ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی غرب اردن سے بھی چار آبادیوں کو ہٹانے کا منصوبہ ہے۔ غزہ کی پٹی خالی کرانے کے بعد بھی اسرائیل غزہ کی سرحد، ساحل اور فضائی حدود پر کنٹرول رکھے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||