BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 August, 2004, 07:19 GMT 12:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجف میں عارضی فائربندی
شیعہ ملیشیا کے ارکان روضۂ علی میں پناہ لیے ہوئے ہیں
شیعہ ملیشیا کے ارکان روضۂ علی میں پناہ لیے ہوئے ہیں
نجف میں لڑائی عارضی طور پر بند ہو گئی ہے اور حکومت اور مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ نجف سے اپنے حامیوں کو نکالنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ امریکی اور عراقی فوج بھی شہر سے نکل جائے۔

مقتدی الصدر کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ نجف میں مقدس مقامات کا نظم و نسق مذہبی حکام کے حوالے کر دیا جائے۔

نجف سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر شہر پر ہونیوالی امریکی بمباری میں زخمی ہوگئے ہیں۔ مقتدیٰ الصدر کے ترجمان نے کہا کہ انہیں تین علیحدہ علیحدہ زخم آئے ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

لیکن دارالحکومت بغداد میں عراقی وزیر داخلہ فلاح النقیب نے کہا کہ مقتدی الصدر زخمی نہیں ہوئے ہیں اور حکومت کے ساتھ مفاہمت کیلئے بات چیت کررہے ہیں۔

فریقین نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ مذاکرات جاری ہیں۔ مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے کہا کہ رکاوٹ صرف یہ ہے کہ حکومت ان کے حامیوں کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

نجف میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ایسا لگتا ہے کہ شہر میں عارضی فائربندی پر اتفاق ہے تاکہ کچھ زخمیوں کو علاج کے لئے شہر سے باہر لایا جاسکے۔

جمعہ کو بصرہ سے برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف کے صحافی جیمس برینڈن کو رہا کر دیا گیا ہے ۔

صحافی جیمس برینڈن کو یرغمال بنانے کی جانب سے جاری کردہ ایک وڈیو ٹیپ میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی فوج نے چوبیس گھنٹوں کے اندر نجف نہیں چھوڑا تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔

جمعہ کی صبح مقتدیٰ الصدر کے ایک نائب ایک مقامی ہسپتال گئے جس کے بعد ایمبولنسوں کا ایک کاررواں قدیم شہر میں داخل ہوا جہاں حضرت علی کا روضہ ہے۔ جمعرات کی شب مقتدی الصدر کے ترجمان نے بتایا تھا کہ انہیں تین زخم آئے ہیں لیکن ان کی صحیح حالت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

جب ان کے ترجمان نے ان کے زخمی ہونے کی خبر دی اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ امریکی بمباری میں جمعرات کی شب گرینچ مین ٹائم کے وقت کے مطابق تین بجے زخمی ہوئے۔

عرب ٹیلی ویژن چینلوں کی غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق انہیں ہاتھ، پیر اور سینے میں زخم آئے۔ تاہم ان کے ایک نائب نے جمعہ کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ مقتدیٰ الصدر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ترجمان کے مطابق زخمی ہونے سے قبل مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ اگر وہ ہلاک بھی ہوگئے تب بھی وہ لڑائی جاری رکھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مقتدی الصدر اپنے حمایتیوں کے ساتھ حضرت علی کے روضے میں پناہ لیے ہوئے ہیں تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔

حضرت علی کی تصویر کے ساتھ شیعہ ملیشیا کا ایک کارکن
حضرت علی کی تصویر کے ساتھ شیعہ ملیشیا کا ایک کارکن

ایک ستائیس سالہ عراقی فارس الحسینی نے ان کے زخمی ہونے کی اطلاع ملنے پر اپنا ردعمل اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا: ’وہ ہمارے لیڈر ہیں اور ہم ان کے بغیر راستہ کھو بیٹھیں گے جیسا کہ ہم ان کے والد کے وفات کے بعد ہمارے ساتھ ہوا تھا۔۔۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان کے زخم معمولی ہیں اور وہ بہت جلد اچھے ہوجائیں گے۔‘

اطلاعات کے مطابق لگ بھگ ایک ہزار جنگجو مقتدیٰ الصدر کے ساتھ ہیں۔ عراق کے وزیراعظم ایاد علاوی نے مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ حضرت علی کا روضہ چھوڑ دیں۔

ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد جمعرات کے روز امریکی اور عراقی فورسز نے نجف پر اپنے کنٹرول میں اضافہ کیا اور دن بھر امریکی افواج نے بمباری کی۔ اس فوجی آپریشن میں دو ہزار امریکی فوجی اور ایک ہزار آٹھ سو عراقی فوجی شامل ہیں جنہیں مقتدیٰ الصدر کے ایک ہزار مسلح حامیوں کا سامنا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے ایک مشیر نے عراقیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نجف میں لڑائی کے خلاف بغداد میں عراقی حکومت کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کریں۔ ایران اور عرب لیگ نے نجف میں ہونیوالی مسلح لڑائی کی مذمت کی ہے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ امریکی فوجی روضۂ علی میں نہیں داخل ہونگے۔ عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے بھی کہا ہے کہ حضرت علی کے روضے پر فائرنگ نہیں کی جائے گی۔ تاہم امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی فوجیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں جوابی فائرنگ کی جاسکتی ہے۔

دریں اثناء عراقی شیعہ برادری کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ حالات اتنے خراب ہونے والے ہیں تو وہ شہر چھوڑ کر نہیں جاتے۔ آیت اللہ ان دنوں علاج کے لئے لندن کے ایک ہسپتال میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد