امریکی اہلکار مشرق وسطیٰ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے اعلیٰ اہلکار ایلیٹ ابرمز مشرق وسطیٰ کا دورہ کر رہے ہیں جس میں وہ اسرائیل اور فلسطین کے سربراہوں سے رکے ہوئے قیام امن کے عمل پر بات چیت کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق وہ غرب اردن میں سب سے بڑی یہودی بستی میں توسیع کرنے کے اسرائیلی منصوبہ پر امریکہ کی تشویش کا اظہار کریں گے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت مالح ادومم یہودی بستی میں ہزاروں کی تعداد میں نئے گھر بنانے کے منصوبہ پر غور کر رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان نئے گھروں کے ذریعے بستی کو یروشلم کے ساتھ جوڑا جائےگا۔ مسٹر ابرمز نے اس سلسلے میں فلسطینی وزیراعظم احمد قریع سے ساتھ بات چیت کی ہے اور وہ ایریل شیران کے ساتھ ملاقات میں بھی اس مسئلے کے بارے میں بات کریں گے۔ حال ہی میں امریکہ کے محکمہ داخلہ نے کہا تھا کہ مالح ادومم میں چھ سو نئے گھر بنانے کا اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی امن عمل یا ’روڈ میپ‘ کے خلاف ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی افواج نےغزہ کے کچھ حصوں سے واپسی شروع کر دی ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے یہ علاقے اسرائیلی افواج کے قبضے میں تھے۔ بیت حنون کے شہر میں اسرائیلی افواج نے کئی سڑکوں اور عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اس علاقے میں نخلستانوں اور باغات کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شدت پسند ان کا استعمال اسرائیل پر میزائیل داغنے کے لیے کرتے تھے۔ اب تک یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اسرائیلی افواج کا انخلاء مستقل ہے یا نہیں۔ اسرائیل کے قبضے کے دوران شدت پسندوں نے اسرائیلی نشانوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||