40 ہلاک، کارروائی معطل، فوج واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین روزہ کارروائی کے بعد اسرائیلی فوج اور ٹینک رفاہ کے دو علاقوں سے باہر نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔ علاقے میں رہائش پذیر فلسطینی نے بتایا ہے کہ دن کا آغاز ہوتے ہی تل سلطان اور برازل کے علاقوں سے بہت سے اسرائیلی فوجی واپس چلے گئے۔ تاہم اسرائیلی کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرنگوں میں فلسطینیوں کے ہتھیاروں کی تلاش جاری رہے گی جو موجودہ کارروائی کا مقصد بھی تھا۔ اس کارروائی میں چالیس کے قریب فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر امدادی تنظیموں کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ تل سلطان میں بحران کا اندیشہ ہے۔ پچھلے ہفتہ رفاہ کے علاقہ میں فلسطینی شدت پسندوں نے 13 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا ـ جمعرات کو اسرائیلی فوج ایسی سرنگوں کی تلاش میں جو اس کے مطابق اسلحہ سمگل کرنے کے لۓ استعمال کی جاتی ہیں، رفاہ کے دو جنوبی علاقوں میں داخل ہو گئی تھی۔ سوگوار گزشتہ روز ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں شرکت کے لۓ رفاہ کی سڑکوں پر ایک بے ہنگم جلوس کی شکل میں نکل آۓ ۔ جمعرات کو رفاہ میں لوگ دودھ ، پانی اور کھانا بھی لاۓ تھے جسے وہ تل سلطان کے رہائشیوں تک پہنچانا چاہتے تھے ـ پچھلے تین روز سے اسرائیلی فوج نے اس شہر پر قبضہ کیا ہوا ہے تھا۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اشیاء کی سخت قلت ہوتی جا رہی ہے اور اگر اس علاقہ کے 25000 رہائشیوں کو پانی اور بجلی نہ فراہم کی گئی تو ایک بحران پیدا ہو جاۓ گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کے مطابق تل سلطان میں 22 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں لیکن جب تک کرفیو نہیں اٹھایا جاۓ گا ان کے رشتہ دار انہیں دفن نہیں کر سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رفاہ کا مردہ خانہ بھر چکا ہے اور کئی لاشوں کو شہر کے مختلف حصوں میں مردہ خانوں میں رکھنا پڑا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||