ملائشیا میں انٹرنیٹ کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا میں ایسے صارفین کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے ایک کانفرنس ہو رہی ہے جن کی زبان میں غیر مغربی حروف استعمال ہوتے ہیں۔ ویب پر انٹرنیٹ ایڈریسز اور ڈومینز کے ناموں سے متعلق امور سنبھالنے والی کمپنی آئیکین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں انٹرنیٹ کے سب سے زیادہ صارف ایشیائی باشندے ہوں گے۔ اگرچہ انٹرنیٹ کا پورا منصوبہ انگریزی زبان بولنے والے ممالک میں تیار کیا گیا تھا لیکن اب مشرقی ممالک انٹرنیٹ کا محور و مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ آئیکین کا کہنا ہے کہ دنیا میں دس کروڑ سے زائد صارفین انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے ہائی سپیڈ براڈ بینڈ کنیکشن استعمال کرتے ہیں جن کی تقریباً نصف تعداد ایشیائی ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ چند ہی برسوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی زیادہ تعداد کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہو گا اور یہ صورت حال علاقے کے اقتصادی حالات پر گہرا اثر ڈالے گی۔ ایک طرف جہاں بیشتر مغربی حروف ایک ہی انداز میں لکھے جاتے ہیں وہیں چند زبانوں کے حروف تہجی ایسے بھی ہیں جو مختلف ممالک میں مختلف انداز میں لکھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چین، تائیوان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک میں لکھے جانے والے حروف ایک سے نہیں ہیں حالانکہ ان کی شروعات ایک ہی جگہ سے ہوئی ہے۔ اس فرق کے سبب انٹرنیٹ کے ایڈریس لکھتے ہوئے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ ایڈریس میں کسی فرق کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کوالالمپور میں جاری اجلاس میں شرکت کی غرض سے آئے ہوئے وفود مختلف زبانوں پر غور کرنے کے بعد یہ کوشش کریں گے کہ ہر حرف کے لیے ایک ہی سمبل استعمال کرنے پر اتفاق رائے ہو جائے۔ اجلاس میں یہ غور بھی کیا جائے گا کہ آیا انٹرنیٹ ڈومینز کے لیے نئے نام متعارف کرانا ممکن ہے یا نہیں۔ اس کانفرنس کی انعقاد کرنے والے ادارے آئیکین کا، جو انٹر نیٹ ایڈریسز کا انتظام بھی سنبھالتا ہے، کہنا ہے کہ یہ کانفرنس ویب پر سے انگریزی کی چھاپ کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||