’میڈ ان‘ افغانستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کا تختہ پلٹنے کے بعد افغانستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاص اضافہ نہیں ہوا ہے مگر ایک امریکی کمپنی افغانستان میں بننے والی چیزوں کو دنیا بھر میں پہنچانے کی کوشش میں کامیاب ہو رہی ہے۔ اوورسٹاک ڈاٹ کام کا گودام امریکہ کے شہر سالٹ لیک سٹی میں ہے۔ یہ کمپنی گھاٹے میں چلنے والی دوسری کمپنیوں سے چیزیں خرید کر انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے بیچنے میں ماہر ہے۔ تین سال پہلے اوورسٹاک کے مالک پیٹرک برائن نے اوورسٹاک میں کام کرنے والی ایک افغان خاتون نیلب کنشکہ کے ساتھ مل کر ورلڈسٹاک کے نام کی ایک دوسری کمپنی شروع کی تھی۔ نیلب کنشکہ 1989 میں اپنے خاندان سمیت افغانستان سے بھاگ کر پاکستان چلی گئی تھیں۔ وہ امریکہ جانے سے پہلے سات سال تک پاکستان میں رہی تھیں۔ نیلب کنشکہ کا کہنا ہےکہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں خیال آیا کہ وہ افغانستان میں بنی ہوئی چیزوں کو دنیا بھر میں فروخت کر سکتی ہیں۔ اب ورلڈسٹاک کے انتظام کی ذمہ داری نیلب کنشکہ پر ہے۔ ان کی کمپنی افغان ڈیزائنرز سے زیور اور قالین جیسی چیزیں خریدتی ہے اور پھر انہیں دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے فروخت کرتی ہے۔ یہ کمپنی نہایت ہی کامیاب رہی ہے اور اس وقت تقریباً 1500 افغانوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ نیلب کنشکہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ سٹاک نے کابل میں ایک گودام کھول دیا ہے جہاں سے اس کا کاروبار چلتا ہے۔ افغانستان کی حکومت بھی ورلڈسٹاک کے حامیوں میں شامل ہے۔ امریکہ میں افغانستان کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ زیور، کپڑوں اور قالینوں کی طرح دوسری چیزوں کو بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بیچا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||