انتخابی کارکنوں پر بم حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی افغانستان میں انتخابی سرگرمیوں میں شریک کارکنوں کی ایک ٹیم پر کیے گئے خطرناک حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں ایک بس کے بم دھماکے کی زد میں آنے سے واقعہ ہوئیں جس میں خواتین کی وہ ٹیم بھی سوار تھی جو افغانستان میں ستمبر میں ہونے والے انتخابات کی تیاریوں کر رہی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم دو خواتین شامل ہیں اور افغانستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ یہ واقعہ جلال آباد سے باہر اس شاہراہ پر پیش آیا جو پاکستانی سرحد کی طرف جاتی ہے۔ فوجی انٹیلیجنس کے افسر کے مطابق بم اس گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جسے الیکشن کمیشن نے کرایہ پر حاصل کر رکھا تھا۔ ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ دھماکے کا شکار ہونے والی خواتین کی ٹیم جلال آباد سے باہر اس مقام کی طرف جا رہی تھی جہاں ووٹروں کی رجسٹریشن کی جانی تھی۔ کرایہ پر حاصل کی گئی گاڑی کا ڈرائیور، جس میں بم نصب کیا گیا تھا، گاڑی سے کودنےمیں کامیاب ہو گیا تھا اور اسے کوئی چوٹ نہیں آئی تھی لیکن اسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مشترکہ الیکشن مینیجمنٹ بورڈ کے سربراہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ خواتین کی ٹیم اسی بورڈ کے لیے کام کر رہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||