شدت پسندوں کو معافی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب نے ایک ماہ کے اندر اندر خود کو حکام کے حوالے کرنے والے مشتبہ شدت پسندوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی وثرن پر شاہ فہد کی جانب سے پڑھے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ بھی اس معافی کے حقدار ہونگے جنہوں نے مذہب کے نام پر جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔ بیان کے مطابق جو لوگ ایک ماہ کے اندر اندر خود کو قانون کے حوالے کردیں گے ان کے ساتھ اللہ کے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ گزشتہ ایک برس میں سعودی عرب میں کئی خود کش بم دھماکے ہوئے ہیں اور حال ہی میں شدت پسندوں نے غیر ملکیوں کواغوا کرنا شروع کر دیا۔ سعودی حکومت نے سدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں جس کی وجہ سے ریاض اور دوسرے مقامات پر محاصرے اور دو طرفہ فائرنگ ہوئی۔ بی بی سی رپورٹر حبا صالح کا کہنا ہے کہ اس بیان کا متن مبہم ہے لیکن سعودی وکلاء کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے گی یا انہیں معاف کردے گی جو خود کو قانون کے حوالے کر دیں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ خود کو قانون کے حوالے نہیں کریں گے انہیں حکومت کے غیض و غضب کا سامنا ہوگا ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||