| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکیوں کی حفاظت سخت
امریکہ نے سعوری عرب حفاظت و سلامتی کی تشویشناک صورتحال پر اپنے سفارتکاروں کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ ریاض میں امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ شہر کی ان رہائشی عمارتوں میں جانے سے گریز کریں جہاں مغربی مکین بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ گزشتہ ماہ خودکش بمباروں نے غیر ملکیوں کی ایسی ہی ایک عمارت میں حملہ کرکے اٹھارہ افراد ہلاک کردیے تھے۔ امریکہ کی جانب سے ان تازہ ترین حفاظتی انتظامات کے فوراً ہی بعد سعودی حکام نے گزشتہ ماہ کے خودکش بم حملوں کے چھبیس مشتبہ ملزمان کے نام جاری کیے ہیں۔ امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ثبوت حاصل ہوئے ہیں کہ دہشت گردوں نے گزشتہ ماہ ایسی ہی ایک عمارت کی زبردست نگرانی کی ہے۔ سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ریاض میں واقع ’صدر ولیج کمپاؤنڈ‘ کی نگرانی کی جاتی رہی ہے۔ سفارتخانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارتکار اور ان کے اہل خانہ رہائشی عمارتوں میں محض سرکاری مصروفیات کے تحت ہی جائیں اور وہ بھی فقط دن کے اوقات میں۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ سفارتخانے نے ’صدر ولیج کمپاؤنڈ‘ کی اس عمارت کے بارے میں تنبیہ جاری کی جس میں ’صدر ولیج کمپاؤنڈ‘ کو دہشت گردی کی کسی واردات کا ممکنہ ہدف قرار دیا ہے۔ سفارتخانے نے سعودی عرب کا سفر کرنے والے یا وہاں مقیم امریکی شہریوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنا اندراج ملک بھر میں موجود امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں میں کروائیں اور بہتر ہے کہ چوکنا ہی رہیں۔ گزشتہ ماہ کے حملوں سے محض چند گھنٹے قبل ہی امریکہ نے خفیہ اداروں کی معلومات کی روشنی میں دہشت گردی کی کسی ممکنہ واردات کے پیش نظر سعودی عرب میں اپنے تمام قونصل خانے اور سفارتی عمارتیں اور سفارتخانہ بند کردیا تھا۔ دریں اثنا سعودی حکام نے گزشتہ ماہ کے خودکش بم حملوں کے چھبیس مشتبہ ملزمان کے نام جاری کیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کی کسی بھی واردات کو ناکام بنانے والے کسی بھی شخص کو انیس لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ان مشتبہ افراد میں زیادہ تر سعودی ہی ہیں مگر ان میں دو کا تعلق مراکش اور ایک کا ممکنہ طور پر یمن سے بھی ہوسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||