کوفہ و کرکک میں سترہ عراقی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شیعہ انقلابی رہنما مقتدیٰ الصدر کے تیرہ مسلح حامیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس دوران شمالی عراق شہر کرکک میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں چار عراقی ہلاک اور بیس کے قریب زخمی بتائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ اردن سے عراق میں داخل ہونے والے ایک امریکی قافلے پر حملہ کیا گیا ہے جس میں کئی گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ فوجی قافلہ امریکی فوجیوں کے لیے رسد لے کر عراقی میں داخل ہو رہا تھا اور اس میں متعدد لوگ بھی شامل تھے۔ کوفہ میں الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکی ان کے جانی نقصان کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نجف میں جہاں مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کی بڑی تعداد ہے منگل کو ایک جلوس نکالا گیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی تقدیس کے حامل شہر نجف سے چلے جائیں۔ بتایا گیا ہے کہ حب یہ مظاہرین الصدر کے دفتر کے قریب سے گزر رہے تھے تو دفتر کے اندر موجود الصدر کے حامیوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ بی بی سی میں مذہبی امور کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ جلوس خود کو عراقی اہلِ تشعیہ کے حقوق کا ترجمان قرار دینے والے مقتدیٰ الصدر کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔ کرکک دھماکے کی تفصیلات کے مطابق دھماکہ خیز مادہ کردوں کے علاقے میں ایک قدیم مسجد کے قریب رکھا گیا تھا۔ یہ مسجد شہر کے ایک مصرف علاقے میں واقع بتائی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||