بغداد میں 32 عراقی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی جنرل مارک کِمٹ نے کہا ہے کہ بغداد میں امریکی فوج کے ساتھ ہونے والی چھڑپوں میں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے 32 حامی ہلاک ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے بغداد کے صدر سٹی ضلع میں واقع مقتدیٰ الصدر کے دفاتر تباہ کر دیئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شیعہ ملیشیا کے مشتبہ ارکان پیر کو ہونے والے جھڑپوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی فوج نے بغداد میں مقتدیٰ الصدر کے ایک ساتھی کو گرفتار کرنے کے ایک روز بعد اتوار کو ان کے انیس حامیوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔ دریں اثناء بکتر بند گاڑیوں کا امریکی قافلہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ کے دوران پہلی مرتبہ فلوجہ میں داخل ہو گیا ہے جس کے ہمراہ فلوجہ بریگیڈ کے عراقی دستے بھی ہیں۔ یہ عراقی دستے شہر میں گشت کریں گے۔ یہ فوجی قافلہ فلوجہ بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپریل کے اختتام پر مزاحمتی گروہوں کے ساتھ طے پانے والے عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا جائزہ لے۔ اس کے علاوہ کرکوک میں ایک گاڑی پر مسلح افراد کی فائرنگ سے دو غیر ملکی کارکن ہلاک ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں جنوبی افریقہ کا ایک باشندہ اور ایک عراقی فائرنگ سے اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ گاڑی میں سوار شہر میں داخل ہو رہے تھے جبکہ نیوزی لینڈ کا ایک شخص بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ امریکی فوج گزشتہ چند ہفتوں سے کوشش کر رہی ہے کہ وہ کربلا، نجف اور کوفہ میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کی طرف سے جاری مزاحمت کا خاتمہ کر دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||