نو امریکی فوجی، تین عراقی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز امریکی فوجیوں پر ہونے حملوں میں مجموعی طور پر نو فوجی ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں تین عراقی بھی مارے گئے ہیں۔ چھ امریکی مغربی عراق میں رمضی میں امریکی اتحادیوں کے اڈے پر کیے جانے حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں تیس امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایک اور حملے میں جو عراق کے شمالی شہر کرکک میں کیا گیا ایک امریکی فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ دارالحکومت بغداد کے شمال مغرب میں بھی ایک حملے میں دو امریکی فوجی مارے گئے۔ اس حملے میں سکیورٹی فورس کے دو عراقی ارکان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل عمارہ شہر میں ہونے والی جھڑپوں میں تین عراقی ہلاک اور چھ برطانوی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ ادھر واشنگٹن میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل رچرڈ مائرز نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ فلوجہ کا نظم و نسق سنبھالنے والی عراقی فورس کا کمانڈر معزول عراق صدر صدام حسین کے ایک سابق جنرل کو بنایا گیا ہے۔ جنرل مائرز نے کہا ہے کہ اس وقت جنرل جسیم صالح کے بارے میں جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ مگر فلوجہ کے باہر امریکی فوج کے افسر کہتے ہیں کہ وہ شہر میں امن و امان کی بحالی کے لئے جنرل صالح پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||