BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 May, 2004, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیرون کا نیا منصوبہ
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون فلسطینی علاقوں سے یکطرفہ انخلاء کے منصوبے کا متبادل آئندہ تین ہفتوں میں پیش کریں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے یہ اعلان لیکود پارٹی کی طرف سے غزہ اور غرب اردن کے کچھ علاقوں سے انخلاء کے منصوبے کے مسترد کئے جانے کے بعد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا ہے۔

ایریئل شیرون نے حال ہی میں سترہ مئی کو واشنگٹن کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ ایریئل شیرون ملک کے وزراء اور دیگر شخصیات کے ساتھ نئے منصوبے پر صلاح مشورے کریں گے۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق ابھی نئی تجاویز کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں جو حکومت کے سامنے ووٹنگ کے لئے پیش کی جائیں گی۔

اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق دائیں بازو کی نیشنل یونین پارٹی کے دو وزراء، جن میں وزیر سیاحت بینی ایلون اور وزیر ٹرانسپوٹ آویگدور لیبرمین شامل ہیں، احتجاجاً اجلاس سے باہر چلے گئے۔

ایریئل شیرون نے دیگر ارکان سے کہا کہ وہ صلاح مشورے کے بعد ہی نیا منصوبہ تشکیل دیں گے جس میں تقریباً تین ہفتے لگیں گے۔

یروشلم میں موجود بی بی سی کے میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے صدر بش کی طرف سے فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی انخلاء کی حمایت کے باوجود، لیکود پارٹی کی طرف سے انخلاء کا منصوبہ مسترد کئے جانے کے بعد وزیراعظم ایریئل شیرون واضح طور پر کمزور پڑ گئے تھے۔

اس سے پہلے صدر بش نے کہا تھا کہ فلسطین میں قیادت میں تبدیلی اور خطے میں تشدد کی وجہ سے دو ہزار پانچ تک فلسطین کی آزاد اور پرامن ریاست کا قیام ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مصر کے الحرم ڈیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دو ہزار پانچ تک کے ٹائم ٹیبل پر عمل کرنا اب اتنا حقیقت پسندانہ نہیں رہا جتنا دو سال قبل تھا‘۔

اس بیان کے جواب میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کا کہنا تھا کہ ’دو ہزار پانچ تک کے لئے متعین کیا جانے والا ٹائم ٹیبل کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ تھا‘۔

صدر بش نے کہا ہے کہ امریکہ اب بھی مشرقِ وسطی میں امن کی کوششوں کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال دو ہزار پانچ بہت نزدیک ہے اور ہمیں دو ہزار تک یہ کام مکمل کرنا ہے۔

جبکہ رام اللہ میں مقید یاسر عرفات نے صدر بش کے بیان کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ انیس سو اٹھاسی اور اناسی میں ہونے والے امن سمجھوتے میں پرامن ریاست کے قیام کو مدِنظر رکھنا چاہئے تھا۔

اس کے علاوہ فلسطین کے وزیرِاعظم احمد قرئع نے کہا ہے ’ابھی ہمارے پاس کافی وقت ہے۔ ہم ایک مکمل اور بہتر لائحہ عمل تیار کر سکتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد