غزہ سے ’انخلا‘ پر ووٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی حکمراں لکود پارٹی کے ارکان وزیراعظم ایریئل شیرون کی غزہ سے انخلا کی پالیسی پر ایک روزہ ووٹنگ کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ پارٹی اس کے حق میں ہیں یا نہیں۔ وزیراعظم ایریئل شیرون کی تجویز کے مطابق غزہ کی پٹی میں موجود ساڑھے سات ہزار یہودیوں اور تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ البتہ اسی تجویز کے تحت غرب اردن میں واقع بڑی یہودی آبادیوں کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ ووٹنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو، وہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا پر کاربند رہیں گے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ لکود پارٹی کے دو لاکھ ارکان کی جانب سے یہ تجاویز مسترد کیا جانا قبل از وقت انتخابات پر منتج ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی رائے عامہ کے مطابق ایریئل شیرون کی جانب سے غزہ سے انخلا کی تجویز کو بہرحال شکست کا سامنا ہو گا لیکن بہت ہی کم اکثریت سے۔ اسرائیلی وزیراعظم عوامی حمایت کے حصول کے لئے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ چونکہ ان کی تجویز کو امریکی حمایت بھی حاصل ہے اس لئے ’انکار‘ کی صورت میں ووٹ ڈالے جانے کے سبب امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس بات سے بھی اتفاق کرتی ہے کہ غزہ سے انخلا اسرائیل کے اپنے حق میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||