’انخلا‘ پر ووٹنگ، شیرون کو شکست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم ایریئل شیرون کو غزہ سے انخلا کی پالیسی پر کرائی جانے والی ووٹنگ میں شکست کا خدشہ ہے۔ ووٹنگ کے بعد لگائے جانے والے اندازوں کے مطابق ساٹھ فیصد اسرائیلیوں نے پالیسی کے خلاف جبکہ چالیس نے حق میں ووٹ دیا ہے۔ یہ ایک روزہ ووٹنگ اسرائیل کی حکمراں لکود پارٹی نے کرائی تھی تا کہ اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ پارٹی اس کے حق میں ہیں یا نہیں۔ اسرائیلی ریڈیو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اپنی ہی پارٹی کے ارکان کو یک طرفہ انخلاء کے منصوبے کا حامی نہیں بنا سکے۔ وزیراعظم ایریئل شیرون کی تجویز یہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں موجود ساڑھے سات ہزار یہودیوں اور تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے۔ اسی تجویز کے تحت غرب اردن میں واقع چھ بڑی یہودی آبادیوں کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ اگرچہ ووٹنگ کے نتائج اسرائیلی وزیراعظم کے حق میں نہیں ہیں تاہم وہ پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ ووٹنگ کا نتائج کچھ بھی ہوں، وہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا پر کاربند رہیں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ لکود پارٹی کے دو لاکھ ارکان کی جانب سے یہ تجاویز مسترد کیا جانا قبل از وقت انتخابات پر منتج ہو سکتا ہے۔ اسرائیل میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس بات سے بھی اتفاق کرتی ہے کہ غزہ سے انخلا اسرائیل کے اپنے حق میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||