حملوں میں سات افغان فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام کے مطابق جنوبی صوبہ قندہار میں مشتبہ طالبان نے پانچ جبکہ وسطی افعانستان کے صوبہ ارزگان میں دو افغان فوجیوں کو حملے کرکے ہلاک کر دیا ہے۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر تین فوجی اور ایک سرکاری ملازم زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ پنجوائی کے علاقے میں کیا گیا جہاں افغان فوجی گزشتہ کئی روز سے طالبان چھاپہ ماروں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب انہوں نے طالبان کے ٹھکانوں کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ ادھر وسطی افغانستان کے صوبہ ارزگان سے بھی اطلاع ملی کہ وہاں مشتبہ طالبان نے حملہ کرکے دو افغان شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک مسلح شخص نے ایک سرکاری دفتر پر گولیاں چلا کر دو فوجیوں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک اور سرکاری ملازم بھی گولی کی زد میں آکر زخمی ہوگیا ہے۔ افغانستان میں ان دنوں ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لئے ووٹروں کے اندراج کا کام ہو رہا ہے تاہم امن و امان کی سنگین صورتحال کے سبب تقریباً ایک کروڑ رائے دہندگان میں سے اب تک صرف بیس لاکھ کا اندراج کیا جا سکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان فاروق وردک کا کہنا ہے کہ اندراج کے دوسرے مرحلے میں ملک کے چار صوبوں کو شامل نہیں کیا جا رہا کیونکہ وہاں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ یہ صوبے نورستان، زابل، ارزگان اور پکتیکا ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||