BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر اور انتخابی مہم

کشمیر
کشمیر میں انتخابات کے خلاف احتجاج
بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں مگر کشمیر میں اس بار بھی عوام کے ایک بڑے حلقے میں انتخابات سے زیادہ زندگی اور زندہ رہنے کی فکر دامن گیر دکھائی دیتی ہے۔

مقامی اور قومی سطح کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے پارلیمانی انتخابات کے لۓ اپنےامیدوار کھڑے کئے ہیں لیکن کشمیر کے کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں لوگوں کو ان امیدواروں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

یہاں اِنتخابی جلسے چند گاڑیوں اور لاؤڈ سپیکروں تک محدود ہیں اور جہاں سے بھی یہ گاڑیاں گزرتی ہیں، بیشتر لوگ وہاں سے دور بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں کیونکہ انتخابی گاڑیاں کئی بار شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔

علاقائی سیاسی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اپنے حامیوں کو گاڑیوں میں بھر بھر کر انتخابی جلسوں تک لانے کا انتظام تو کرتی رہی ہیں۔ مگر جب یہ جلسے بھی شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں آگۓ تو ان جماعتوں کے حامی بھی ان جلسوں سے دور رہنے پر مجبور ہوگۓ۔

کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں کوئی ایسی ٹھوس بات نہیں کہی ہے جس سے عوام میں اعتماد بحال ہو یا انہیں زندہ رہنے کی کوئی ضمانت مل سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر جماعت نے مبہم سے انداز میں مسئلہ کشمیر کے حل اور مظفر آباد سرینگر شاہراہ کھولنے کا وعدہ کیا ہے لیکن بیشتر عوامی حلقوں کو یہ محض انتخابی ڈھونگ ہی نظر آرہا ہے۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان جماعتوں کے پاس مرکزی حکومت سے ٹکر لینے کی طاقت ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ یہ جماعتیں مرکزی حکومت کی بیساکھیوں کے بغیر معمول کا کام کاج بھی چلانے کی اہل نہیں ہیں۔

کشمیر ووٹر
کشمیری رائے دہندگان

عوام کاایک بڑا حلقہ انتخابی عمل سے بالکل الگ تھلگ ہے اور گاڑیوں سے جڑے لاؤڑ سپیکروں سے لگائے جانے والے نعروں پر یہ لوگ بس طنزیہ سی ہنسی ہنس کر رہ جاتے ہیں۔

البتہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے حامیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اب بھی موجود ہے۔ لیکن شدت پسندوں کے ہاتھوں ان کے بعض حامیوں کی ہلاکت سے ان میں بھی خوف اور دہشت پائی جاتی ہے۔ اسی کے پیش نظر ان جماعتوں کے اکثر حامی کمانڈوز کی طرح اپنے سروں اور چہروں کو چھپا کر اورانتخابی گاڑیوں کے اندر بیٹھ کر عوام کو ووٹ دینے پر مائل کر رہے ہیں۔

علیحدگی پسند تنظیمیں اس بار بڑے پیمانے پر انتخاب مخالف مہم میں مصروف ہیں اور کسی حد تک لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ لیکن کشمیر کے بارے میں یہ مثل مشہور ہے کہ جتنے لوگ حریت کے ساتھ ہیں، اتنے ہی نیشنل کانفرنس کے ساتھ اور اتنے ہی پی ڈی پی کے ساتھ بھی بلکہ اگر کوئی دوسری پارٹی بھی سامنے آ جائے تو اتنی ہی تعداد اس کے ساتھ بھی ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کسے عوام کا اصلی نمائندہ مانا جائے ۔ایسی صورتحال میں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ والی مثال ہی یہاں حقیقت بن جاتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد