ایران کو ایک بار پھر بش کی تنبیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی برداشت نہیں کرے گا۔ اخباری مدیران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے ہتھیاروں کی موجودگی مشرق وسطٰی کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک بلکہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’ایسا اس لیے ہے کیونکہ ایران اسرائیل کو تباہ ہوتے دیکھنا چاہتا ہے‘۔ صدر بش نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یورپی ممالک بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی جوکہ ایران کے ساتھ مزاکرات کررہے ہیں، ان کا یہ پیغام واضح طور پر تہران تک پہنچادیں۔ صدر بش نے یہ بیان ایسے وقت پر دیا ہے جب ایک ہی ہفتہ قبل اسلحہ کے بین الاقوامی معائنہ کاروں نے ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے شروع کیے ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کئی بار اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ اس سال فروری میں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان بولٹن نے کہا تھا کہ امریکہ، ایران کے معاملے پر کوئی اقدام کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے کیونکہ ایران جوہری منصوبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر جارج بش نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بین الاقوامی معاہدوں میں سختی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا نے ان ضابطوں میں کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا ہے اور پرامن مقاصد کے نام پر یورینیم کو افزودہ کیا ہے تاہم اب اسے بند ہونا چاہیے۔ صدر بش نے عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی، آئی اے ای اے پر بھی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو ایٹمی سرگرمیوں پر روک تھام کے ضوابط کا اطلاق کرنے کے لیے کام کرنے والی کمیٹی میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر شک کیا جا رہا ہے کہ اس نے ایٹمی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ جان بولٹن نے کہا تھا ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایران اپنا جوہری منصوبہ بدستور آگے بڑھا رہا ہے‘۔ برلن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا ’ہم اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں گے کہ ہمیں اب ایران کے بارے میں کیا قدم اٹھانا ہے‘۔ اس کے برعکس ایران یہ تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ ایران نے گزشتہ سال بین الاقوامی دباؤ کے تحت جوہری افزودگی کا اپنا پروگرام روک دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||