ایران معائنہ کرانے پر تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی کے ساتھ جوہری تنصیبات کے معائنے کا نظام الاوقات طے کر لیا ہے۔ البرادعی کا کہنا تھا کہ ایرانی اہلکاروں کے ساتھ ان کے پانچ گھنٹوں پر محیط مذاکرات کے نتیجے میں خوش آئند اور مثبت امکانات سامنے آئے ہیں جن سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیدا ہونے والے شبہات ختم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ اس مہینے کے آخر میں انہیں اہم معلومات کی پہلی ’قسط‘ فراہم ہو جائے گی۔ گزشتہ ماہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی طرف سے جوہری پروگرام کو خفیہ رکھنے کے الزامات کے بعد ایران نے معائنہ کاری کا عمل معطل کر دیا تھا۔ منگل کو البرادعی سے مذاکرات کے بعد ایران کی جوہری توانائی کی ایسوسی ایشن کے سربراہ غلام رضا آغازادے کا کہنا تھا کہ ایران اقوامِ متحدہ کے ادارے کے ساتھ تعاون کو فروغ دے گا اور جون تک جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے تمام خدشات دور کر دے گا۔ البرادعی نے کہا کہ چند دنوں میں ادارے کی طرف سے انسپکٹروں کی ایک نئی ٹیم ایران پہنچے گی۔ آغازادے کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کے دوران محمد البرادعی نے کہا کہ ’اس بات پر ہمارا اتفاق ہوگیا ہے کہ دنوں اداروں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہونا چاہئیے۔‘ انہوں نے کہا کہ آغازادے سے ملاقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران پرانے معاملات کو حل کرنے کے لئے بھر پور تعاون کرے گا۔ خود آغازادے کا کہنا تھا کہ ایران جون تک اس معاملے کو ختم کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ نو اپریل سے ایران سنٹرفیوج پر کام روک دے گا۔ جون میں عالمی ادارے کا بورڈ اس بات کا جائزہ لے گا کہ ایران نے معائنہ کاری میں کس حد تک تعاون کیا ہے۔ ایران آنے سے قبل البرادعی نے کہا تھا کہ ایران جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||