’یورینیم کی افزودگی نہ کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی توانائی پر نگرانی کے عالمی ادارے نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے کی دھمکی پر عمل نہ کرے۔ اس سے قبل ایران نے امریکی رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے معاملات طے ہوجانے کے بعد وہ پھر سے جوہری مواد تیار کرنا شروع کر دے گا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ کمال خرازی نے تہران میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ’یورینیم کو افزودہ کرنا ہمارا جائز حق ہے۔‘ گزشتہ سال اکتوبر میں ایران نے کہا تھا کہ اگرچہ اس کا یورنیم کو افزودہ کرنا پُر امن مقاصد کے لئے ہے۔ تاہم وہ وہ ایسا کرنا معطل کر دے گا۔ کمال خرازی نے خبردار کیا کہ اگر یورپی ممالک نے امریکی دباؤ کا سامنا نہ کیا تو ممکن ہے ایران جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے تعاون روک دے۔ پیر کے روز عالمی ادارے نے یہ فیصلہ کرنے کے لئے اپنا اجلاس شروع کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کیسے معاملہ کیا جائے۔ اس سے قبل ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے تشویش ظاہر کی تھی کہ ایران نے ادارے کو اپنے جوہری پروگرام کے کچھ حصوں سے آگاہ نہیں کیا۔ ہفتۂ رواں میں ویانا میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے بورڈ کے سامنے جس میں پینتیس ممالک کی نمائندگی ہے، ایک مسودۂ قرارداد رکھا جائے گا۔ اس دستاویز میں ایران پر تنقید کی جائے گی لیکن کسی بھی قسم کی پابندی کا فیصلہ جون تک مؤخر کیا جائے گا۔ پچھلے برس عالمی ادارے نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس وقت تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا تھا جب اسے شک ہوا کہ کہیں یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کی آڑ میں ایران جوہری ہتھیار نہ بنا لے یا بنا رہا ہو۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ تاہم پھر بھی وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے تعاون پر تیار ہو گیا تھا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے تازہ ترین صورتِ حال کے تناظر میں کہا ہے کہ ’اعتماد کی بحالی کے لئے ہم نے رضاکارانہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ ہم یورنیم کو افزودہ کرنے کا پروگرام محدود عرصے کے لئے معطل کردیں۔ تاہم جب عالمی ادارے سے ہمارے تعلقات بہتر ہو جائیں گے، تو ہم یہ سلسلہ دوبارہ شروع کردیں گے۔‘ خرازی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے کہا کہ وہ امریکہ کے اس دباؤ کی مزاحمت کریں جس کے تحت وہ چاہتا ہے کہ یہ اعلان ہو جائے کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے لہذا اس پر پابندیاں لگنی چاہیئں۔ کمال خرازی نے کہا: ’تعاون دو طرفہ ہوتا ہے۔ اگر برطانیہ، فرانس اور جرمنی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو ہمارے پاس بھی تعاون کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||