BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 April, 2004, 04:28 GMT 09:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیرون کی حمایت پرتنقید و ناراضگی
News image
صدر بش نے چند ہی روز قبل مصری صدر حسنی مبارک سے مشرقِ وسطیٰ پر صلاح مشورہ کیا تھا اوور اسرائیلی منصوبے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے متنازع منصوبے کے لیے صدر بش کی سرپرستی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس سے پہلے غزہ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ فلسطینی وزیراعظم اور دوسرے رہنماؤں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ صدر بش کی طرف سے شیرون کی اس حمایت سے پورے علاقے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تاہم امریکی صدر کے بعد برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے بھی اریئل شیرون کے منصوبے کی تعریف کی ہے لیکن انہوں نہ صدر بش کے مقابلے میں قدرے محتاط رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انخلاء امن کے جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم ہے۔

صدر بش نے اسرائیلی وزیراعظم اریئل شیرون سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد ان کے متنازع منصوبے کی تعریف کی ہے جس کے تحت وہ غزہ سے اپنے فوجی واپس بلالیں گے اور اسرائیلی آبادیاں ہٹا کر غرب اردن کے کچھ حصے خالی کردیں گے۔

صدر بش نے کہا کہ تمام فریق اس حل کو تسلیم کر کے وہ دنیا کے طویل ترین تنازع کو ختم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناگزینوں کو اسرائیل میں آباد نہیں کرنا چاہئے۔

مسٹر بش نے انیس سو انچاس کی سرحدوں پر اسرائیل کی واپسی کے مطالبے کو مسترد کر تے ہوئے شیرون کے منصوبے کے متنازع حصے کو بھی بڑی حد تک قبول کرلیا جس میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن میں میں بعض بڑی یہودی بستیاں قائم رکھی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد