شیرون کی حمایت پرتنقید و ناراضگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے متنازع منصوبے کے لیے صدر بش کی سرپرستی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے پہلے غزہ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ فلسطینی وزیراعظم اور دوسرے رہنماؤں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ صدر بش کی طرف سے شیرون کی اس حمایت سے پورے علاقے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر کے بعد برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے بھی اریئل شیرون کے منصوبے کی تعریف کی ہے لیکن انہوں نہ صدر بش کے مقابلے میں قدرے محتاط رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انخلاء امن کے جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم ہے۔ صدر بش نے اسرائیلی وزیراعظم اریئل شیرون سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد ان کے متنازع منصوبے کی تعریف کی ہے جس کے تحت وہ غزہ سے اپنے فوجی واپس بلالیں گے اور اسرائیلی آبادیاں ہٹا کر غرب اردن کے کچھ حصے خالی کردیں گے۔ صدر بش نے کہا کہ تمام فریق اس حل کو تسلیم کر کے وہ دنیا کے طویل ترین تنازع کو ختم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناگزینوں کو اسرائیل میں آباد نہیں کرنا چاہئے۔ مسٹر بش نے انیس سو انچاس کی سرحدوں پر اسرائیل کی واپسی کے مطالبے کو مسترد کر تے ہوئے شیرون کے منصوبے کے متنازع حصے کو بھی بڑی حد تک قبول کرلیا جس میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن میں میں بعض بڑی یہودی بستیاں قائم رکھی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||