فلسطینیوں کی غذائی امداد بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اگلے ہفتے سے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی غذائی امداد بند کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کےغذائی امداد کے ادارے کے فلسطینی پروگرام کے ذمہ دار پیٹر ہینسن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث یہ امداد جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ پیٹر ہینسن کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ نے خوراک کے خالی کنٹینر غزہ کی پٹی سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے باعث ایجنسی پر ناقابل برداشت بوجھ پڑا ہے جو کہ پہلے ہی فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آوروں نے غزہ سے باہر جانے کے لئے یہ خالی کنٹینر استعمال کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ چودہ مارچ کو ساحلی علاقہ اشدود حملہ آور بھی انھی کے ذریعے غزہ کی پٹی سے نکلے تھے۔ اس حملے میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت بالخصوص شیخ احمد یاسین کی ہلاکت کے فوری بعد ہم کسی پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ہم انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔‘ اقوام متحدہ کا ادارہ چھ لاکھ فلسطینیوں کو غذائی امداد فراہم کرتا ہے اور وہ مقبوضہ علاقوں میں پہلے ہی روزانہ کی ضروریات کو ساٹھ فیصد سے کم کر کے چالیس فیصد پر لے آیا ہے۔ پیٹر ہینسن نے اخبار کو بتایا کہ ہمیں خوراک کی فراہمی جمعرات کے روز سے معطل کرنا پڑے گی کیونکہ ہم خالی کنٹینر غزہ کی پٹی سے باہر نہ لے جانا مزید برداشت نہیں کر سکتے۔
ادارے کے ایک اور اہلکار کرسٹر نور ڈاہل نے کہا کہ روکے جانے والے کنٹینر جہاز راں کمپنیوں کی ملکیت ہیں اور خالی کنٹینر واپس نہ ملنے کی صورت میں وہ بیس ڈالر روزانہ کے حساب سے جرمانہ وصول کرتے ہیں جو کہ پہلے ہی فنڈز کی کمی کے شکار ادارے کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اقوام متحدہ کی غذائی امداد کا ادارہ اس سال جون میں فلسطینیوں کی غذائی امداد پر گفتگو کے لئے جنیوا میں کانفرنس منعقد کر رہا ہے جس میں ستر ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ ادارہ کی چون سالہ تاریخ میں یہ کانفرنس پہلی بار ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||