BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینیوں کی عمارتیں منہدم
کارروائی
اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی یہودی بستی کے قریب کی ہے۔

اسرائیلی فوج یہودی بستی کے قریب قائم عمارتوں کو تباہ کرنے کے لئے غزہ میں داخل ہوگئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی افواج نے اتوار کو تقریباً دو ہزار فلسطینیوں کو ان عمارتوں سے باہر نکال کر ان عمارتوں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ شدت پسند یہ عمارتیں فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

جعمہ کو اسی یہودی بستی کے قریب تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے جب یہودی بستی میں جاگھسنے والے مسلح افراد نے انہیں گولیاں ماردی تھیں۔ بعد ازاں ان حملوں کی ذمہ داری مشترکہ طور پر حماس اور اسلامی جہاد نے قبول کرلی تھی۔

اسرائیلی فوج نے جن عمارتوں کو تباہ کیا ہے وہ فلسطینیوں کی مرکزی حفاظتی تنظیم تعمیر کررہی تھی۔

اسرائیلی فوج نے الزاہرہ کے قریب پولیس کی ایک چوکی کو بھی دھماکہ سے اڑا دیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’الزاہرہ کے آس پاس موجود لوگوں کو عمارتیں اڑائے جانے کی اس کارروائی کے دوران حفاظت کے پیش نظر وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔‘

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ان افراد کو کارروائی مکمل ہونے پر وہاں واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔‘

یہودی بستی کے مکین بھی عمارتوں کو اڑائے جانے سے قبل بم سے محفوظ رہنے والے مورچوں میں منقتل کردیئے گئے تھے۔

اس کارروائی سے قبل اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز غربِ اردن کے دو ہسپتالوں پر حملے کرکے دو مشتبہ فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان دو میں سے ایک مشتبہ شخص انتہائی نگہداشت کے شعبے میں تھا۔

اسرائیلی فوجیوں نے ہفتہ کے روز نابلس میں ایک ہسپتال پر حملہ کیا اور فلسطینی ڈاکٹروں کے مطابق وہ ایک شخص کو گرفتار کرکے لے گئے جسے نازک حالت کے باعث انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں رکھا گیا تھا۔

دوسرے مشتبہ شخص کو ایک اور ہسپتال پر حملے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ وہ شخص مبینہ طور پر ہسپتال کو بطور اڈہ استعمال کررہا تھا۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند ہسپتالوں میں چھپے ہوئے ہیں جبکہ فلسطین کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجی، حملے کے دوران ہسپتال میں جاگھسے اور ہر کمرے کا دروازہ لاتیں مار کر توڑتے مشتبہ افراد کو ڈھونڈتے رہے۔

نابلس کے اینجلیکن ہسپتال میں فوجی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں جا گھسے اور وہاں موجود خالد حمید نامی شخص کو گھسیٹ کر اسرائیلی ایمبولینس میں اپنے ساتھ لے گئے۔ خالد حمید فلسطینی انتہا پسند تنظیم کے مبینہ رکن بتائے جارہے ہیں۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر عنان عبدالحق نے بتایا ’میں نے فوجیوں کو بتایا کہ خالد کی حالت کتنی نازک ہے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور انہیں ہسپتال کی تمام مشینوں سے الگ کرکے اپنے ساتھ لے گئے‘۔

اسرائیلی، خالد پر خود کش حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتے ہیں۔

دوسرے ہسپتال پر حملہ کرکے اسرائیلیوں نے الاقصیٰ بریگیڈ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

فلسطین کے مذاکرات کارِ اعلیٰ صائب ارکات کا کہنا ہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ اسرائیلیوں نے ہسپتال سے زخمیوں کو اغوا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حالیہ چند ماہ کے دوران اسرائیلی فوج اس نوعیت کے حملے کرتی رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد