جوہری معائنہ کاری کی پھر اجازت؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے گا۔ ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے سے تعلق رکھنے والے معائنہ کاروں کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔ جوہری معلامات میں ایران کے سب سے بڑے مذاکرات کار حسن روحانی نے کہا کہ معائنہ کاری کا کام کچھ تیکنیکی وجوہات کی بنیاد پر روکا گیا تھا جن کو باہمی مفاہمت سے دور کر لیا جائے گا۔ اتوار کے روز آئی اے ای اے نے ایران سے کہا تھا کہ وہ معائنہ کاروں کو جلد از جلد اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کا اجازت دے۔ قرارداد میں ایران پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو خفیہ رکھ رہا ہے۔ امریکہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ خفیہ طور پر ہتھیار تیار کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے دے۔ ایران اس طرح کے تمام الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار جیسے پُرامن مقاصد کے لئے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||