ایران‘ جوہری معائنہ کاری معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری معاملات پر نظر رکھنے والی کمیٹی کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے کی جانے والی معائنہ کاری معطل کر دی ہے۔ تاہم آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری معائنہ کاری کامعطل کیا جانا اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف احتجاج ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران اپنا فیصلہ بدل لے گا۔ حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو غیر منصفانہ اور سخت قرار دیتے ہوئے تصدیق کی کہ آئی اے ای اے کے انسپیکٹرز کو ایران میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معائنہ کاری کو معطل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں آئی اے ای اے کے ساتھ ایرانی تعاون کی صحیح ترجمانی نہیں کی گئی ہے۔
تاہم ویانا میں موجود ایرانی حکام نے معائنہ کاری معطل کئے جانے کی اصل وجہ آئندہ آنے والی نئے سال کی تعطیلات کو ٹھہرایا ہے۔ معائنہ کاروں کی طرف سے ایران کے دورے معطل کئے جانے کے باعث بعض ممالک کے شبہات میں اضافہ ہو گا کہ ایران کچھ چھپا رہا ہے۔ امریکہ ایک طویل عرصے سے یہی کہتا آیا ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری اسلحہ تیار کر رہا ہے۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ صرف پُرامن مقاصد کے لئے ہے۔ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایک ہفتے کی بحث کے بعد سنیچر کو قرارداد منظور کی ہے۔ بعض ممالک قرارداد میں نرمی کے خواہاں ہیں جبکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک یہ چاہتے ہیں قرارداد کو مزید سخت کیا جائے۔ بالآخر قرارداد کے ایک ایسے متن پر سمجھوتہ ہو گیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق ایرانی تعاون کو سراہا گیا ہے لیکن کے ساتھ ساتھ بعض جوہری سرگرمیوں کو پوشیدہ رکھنے کے سلسلے میں ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||